فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ جمہوریت اور اجتماعی قیادت کا نعرہ محض جھوٹا نعرہ ہے۔ اسٹالن اگرچہ مر گیا، لیکن روس میں جب تک مارکسی نظریۂ حیات کی حکمرانی ہے وہاں اسٹالن ازم زندہ رہے گا۔ ان حالات میں روسی لیڈروں نے یہ بہترین موقع سمجھا کہ ’’مصنوعی چاند‘‘ اڑا کر دنیا کی نگاہ کو حقیقی مسئلہ سے ہٹا کر اس کی طرف کر دیا جائے۔ ایک اخبار نے روس کے اس سائنسی مظاہرے پر بہت دلچسپ کارٹون شائع کیا تھا۔ اس نے دکھایا کہ خروشیف نے فٹ بال کی مانند ایک گولے کو زور سے کک لگائی اور وہ فضا میں پہنچ کر ناچنے لگا۔ یہ تصویر بنا کر اس نے فٹ بال پر لکھ دیا ’’مارشل زوکوف‘‘۔ کمیونزم کی ناگریت: اکتوبر انقلاب کے بعد روس میں جو حالات پیش آئے۔ بعض مخلص اشترا کی اس کو’’ انقلاب سے غداری‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انقلاب کی ناکامی اس کے اصولوں کی ناکامی نہیں تھی بلکہ یہ صرف اس بات کا نتیجہ تھی کہ بدقسمتی سے وہاں اسٹالن جیسا ایک شخص برسر اقتدار آ گیا۔ مشہور سوشلسٹ مسٹر جے پرکاش نرائن نے کہا: ’’ جدلیاتی مادیت انسانیت کی تکمیل کا ایک عقیدہ ہے جسے روس میں ایک ڈکٹیٹرانہ راجیہ کا مذہب بنا کر رکھ دیا گیا ہے‘‘۔ مگر یہ تاویل اپنی تردید آپ کر رہی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ خود اشتراکی نظام کی یہ کمزوری تسلیم کر رہے ہیں کہ اس میں حکومت کے ہاتھ میں بے پناہ طاقت آجاتی ہے۔ یہ تاویل دوسرے لفظوں میں خود اس امکان کو تسلیم کر رہی ہے کہ جدلیاتی نظام ایک ایسا نظام ہے جس کے سربراہ کار افراد اگر چاہیں تو نہایت آسانی سے اس کو ڈکٹیٹرانہ راجیہ کی شکل دے سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ کے پاس وہ کون سا روک ہے جس کے ذریعہ آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ ان سوشلسٹ حکمرانوں کو بگڑنے سے بچاسکیں گے جو تاریخ کے تمام شہنشاہوں سے زیادہ اختیارات کے حامل ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader