Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ایک شخص کی ڈکٹیٹر شپ نہیں ہوگی بلکہ سب لوگ مل جل کر حکومت کریں گے۔ اس طرح انھوں نے روس کے عوام اور روس کے محکوم ممالک کے باشندوں کو یہ یقین دلانا چاہا کہ جن نئے متولیوں کے ہاتھ میں اب ان کی قسمت آئی ہے وہ پچھلی سخت گیر حکومت سے بالکل مختلف ثابت ہوں گے۔ اب آمریت کے بجائے ان کے اوپر جمہوریت کی حکمرانی ہوگی۔ شخصی قیادت کے بجائے اجتماعی قیادت ہوگی۔ اسی طرح اپنی سلطنت سے باہر دنیا کی رائے عامہ کو انھوں نے یہ یقین دلانا چاہا کہ اسٹالن کے مرنے کے بعد اس کے ظلم و جبر کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔ مگر حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اجتماعی قیادت کا نعرہ محض فریب تھا۔ اسٹالن نے اقتدار پانے کے بعد سازش اور قتل کے ذریعہ تمام ایسے لیڈروں کو میدان سے ہٹا دیا تھا جو کبھی اس کے حریف بن سکتے تھے۔ اسٹالن کے بعد کریملن (Kremlin) کے اندر پھر وہی عمل شروع ہو گیا۔ اس بار اس عمل کا ہیرو روسی کمیونسٹ پارٹی کا سکریٹری اول خروشیف تھا۔ پہلے مالنکوف کے ذریعہ بیرییا کے گروہ کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد روسی افواج کے مالک مارشل زوکوف کو ساتھ لے کر روس کے اعلیٰ ترین لیڈروں مالنکوف، مالو ٹوف، شپیلفوف اور کگانوچ کو نکال باہر کیا گیا اور جب یہ کام پوری طرح انجام پاچکا تو خود زوکوف کو بھی ایک سازش کے بعد ٹھیک اس وقت برطرف کر دیا گیا جب کہ وہ ایک طویل سرکاری دورہ پر یوگوسلاویہ گئے ہوئے تھے۔ ٢٦ اکتوبر ١٩٥٧ کو مارشل زوکوف کی دورہ سے واپسی اور ان کی علیحدگی کی خبر ماسکو ریڈیو سے ایک ساتھ نشر کی گئی۔ اس طرح چند سال بھی نہیں گزرے تھے کہ اجتماعی قیادت کا نعرہ بکھر گیا اور اگر حالات میں مزید کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں ہوئی تو وہ دن دور نہیں جب کہ خروشیف اسی طرح روس کا وحدہ لاشریک مالک ہوگا جس طرح اس سے پہلے اسٹالن رہ چکا ہے۔ روس کے حالیہ سائنسی مظاہرے جوزوکوف کی برطرفی کے فوراً بعد کیے گئے ہیں۔ دراصل انھیں تاریک حالات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔ روس کے ان حالات نے پھر دنیا کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا تھا خروشیف کے پارٹی سکریٹری کے ساتھ وزیر اعظم بن جانے کے بعد یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page