فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
بگڑ گئی جس طرح اسٹالن کی حکومت بگڑ گئی تو آپ کیا کریں گے۔ سوشلزم کو سیاسی جبر کے بغیر نافذ کرنے کا خیال ایک خطرناک خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ انسان کی اس کمزوری کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس کی تاویل کر کے ساری ذمہ داری حالات پر ڈال دینا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹالن نے جو کچھ کیا وہ اشتراکی نظام اور جدلیاتی اخلاق کا لازمی نتیجہ تھا۔ کوئی بھی دوسرا شخص جو اس کی جگہ ہوتا وہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتا تھا جو اسٹالن نے کیا۔ مارکس کو اقتدار نہیں ملا مگر اس کی تحریروں میں، اس کا جو کردار نظر آتا ہے وہ اسٹالن کے کردار سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ مارکس نے خود کہا تھا کہ "ہم جلاد ہیں"۔ مئی ۱۹۲۹ میں جب جرمنی کی حکومت نے مارکس کو جلا وطن کر دیا اور اس کو مجبوراً اپنا اخبار جدید رائیں گزٹ بند کر کے فرانس جانا پڑا تو اخبار کے آخری نمبر ۱۹ مئی کی اشاعت میں اس نے لکھا: ہمیں ستانے کے بہانے ڈھونڈنے کے لیے حکومت کیوں جھوٹ اور افتراء کے پل باندھ رہی ہے، ہم انقلابی ہیں جب ہمارے دن پھریں گے تو ہم اپنے تشدد کے لیے بہانے نہیں تراشیں گے۔‘‘ اس طرح کی بہت سی تحریریں ہیں جن میں اشتراکیت کے پیغمبر کا اخلاق پڑھا جا سکتا ہے مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ظلم اشتراکیت کی عین فطرت ہے۔ اجتماعی ملکیت کا حل ایک بالکل غیر فطری حل ہے اور تاریخ کی تمام روایات کے بالکل خلاف ہے۔ اس کو نافذ کرنے اور نافذ رکھنے کے لیے تشدد ناگزیر ہے۔ اسٹالن نے جو کچھ کیا وہ کمیونزم کے لازمی نتائج تھے جن کی ابتدا پورے زور شور کے ساتھ خود لینن کے زمانے میں ہو چکی تھی۔ ماسکو کا یہ اعلان کہ ’’اسٹالن آج کے دور کا لینن ہے‘ ایک معنی میں اس کی تعریف ہے اور دوسرے معنی میں اس واقعے کا اظہار ہے کہ لینن اگر زندہ رہتا تو اس کی پالیسی بھی وہی ہوتی جو بعد کے زمانوں میں اسٹالن نے اختیار کی۔ لینن کو زیادہ تر محنت کش طبقہ کے ان’’دشمنوں‘‘ سے جنگ کرنی پڑی جو ’’سرمایہ دار‘‘ تھے۔ اور اسٹالن کو ان دشمنوں سے ے شیر جنگ صفحہ ۷۷۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader