Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی لڑنا پڑا جو خود پارٹی کے اندر پیدا ہو گئے۔ لینن کا زمانہ انقلاب کی ابتدا کا زمانہ تھا۔ اس وقت اندرونی جھگڑے زیادہ نہیں ابھرے تھے اس لیے اس کا نشانہ زیادہ تر روس کا آخری سرمایہ دار‘‘ اور ملک کی غیر بالشویک پارٹیاں تھیں۔ مگر استالن کے زمانے میں خود پارٹی کے اندر لیڈر شپ حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو چکی تھی جیسا کہ عموماً انقلاب کے بعد ہوتا ہے۔ اس لیے استالن کو گھر کے غداروں‘‘ سے بھی لڑنا پڑا۔ لینن نے زیادہ تر باہر کے لوگوں پر ہاتھ صاف کیے تھے۔ استالن کو خود کمیونسٹ کے خون سے بھی ہولی کھیلنی پڑی۔ یہ جو کچھ ہوا اگر خود مارکس روس کا وزیر اعظم ہوتا اس کو بھی وہی کچھ کرنا پڑتا جو استالن نے کیا۔ جہاں سماج کو دو متضاد طبقوں میں بانٹ دیا جائے وہاں دشمنی اور تشدد کا پیدا ہونا لازمی ہے اور جب دشمنی اور تشدد کے رجحانات ایک بار پیدا ہو گئے تو وہ کسی ایک حد پر نہیں رکھتے۔ یہ سانپ صرف دوسروں کو نہیں ڈستا بلکہ خود اپنے بچوں کو نگل جاتا ہے۔ مشہور سوشلسٹ لیڈر اشوک مہتا نے بہت صحیح کہا ہے کہ: ’’ زار کو قتل کرنے کے بعد ناگزیر بطور پر آپ ٹراٹسکی کو بھی قتل کر دیتے ہیں‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ لینن کے روس میں وہ تمام عناصر اپنی ابتدائی حالت میں موجود تھے جو بعد کو استالن کے روس میں نمایاں ہوئے۔ اگر لینن زندہ رہتا اور اس کو وہ عمر ملتی جو استالن کو ملی تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ حالات سے مجبور ہو کر ہر وہ اقدام کرتا جو استالن نے اپنے دور اقتدار میں کیے ہیں۔ کمیونزم جب بر سر اقتدار ہو تو وہ استالن ازم ہی ہوگا، اس کے علاوہ کچھ اور ہونا ممکن نہیں۔ اشتراکیت کا جھوٹ ظلم کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتا کمیونزم کا دعویٰ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار اس نے انسانیت کے مسائل کا صحیح حل پیش کیا ہے اور کمیونسٹ ممالک روئے زمین کے وہ خوش قسمت علاقے ہیں جہاں عملاً یہ حل اپنے نتائج دکھا رہا ہے، جہاں انسان کو وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جس کا وہ ابھی تک صرف خواب دیکھ رہا تھا۔ یہ ایک عظیم ا جمہوری سوشلزم صفحه ۱۲۸

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page