Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

باخبر کر سکے۔ ’’سرخ جنت‘‘ کی ساری اہمیت اسی وقت تک ہے جب تک اس کے گرد آہنی پردہ پڑا رہے۔ اس پردے کے بغیر سرخ جنت کبھی قائم نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے ’’ڈکٹیٹر شپ‘‘ کے تصورات کو الگ کرکے جمہوری طرز پر سوشلزم قائم کرنا چاہا، انھیں اس سلسلہ میں سخت ناکامی ہوئی۔ جاپان میں ۱۹۲۵ کے انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ایک سوممبر کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے بعد جب سے ۱۹۲۷ میں دوسرا الیکشن ہوا تو پارٹی کے کامیاب ممبروں کی تعداد ۱۲۶ ہوگئی۔ اس وقت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹی تھی۔ اس نے مخلوط وزارت بنانے کا فیصلہ کیا اور غیر سوشلسٹ عناصر کے ساتھ مل کر جاپان میں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کا نتیجہ بظاہر یہ ہونا چاہئے تھا کہ جاپان کی پبلک سرمایا دارانہ نظام کی جگہ جمہوری سوشلزم کی برکتوں کو دیکھ کر بالکل اس پر فدا ہوجاتی اور اگلے الیکشن میں وہاں کی سوشلسٹ پارٹی کو سو فی صدی ووٹ ملتے۔ مگر ہوا کیا؟ دو برس کے بعد ۱۹۲۹ میں جب جاپان کے عام انتخابات ہوئے تو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبران کی تعداد پارلیمنٹ میں ۱۲۶ سے گھٹ کر صرف ۴۸ رہ گئیے۔ لے ہندوستان میں بھی اسی قسم کا ایک تماشا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ ۱۹۵۳ کے آخر میں ٹراونکور کوچین (موجودہ کیرالا) میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کی وزارت قائم ہوئی۔ تھوڑے دنوں بعد وہاں کی حکومت کے بعض اعمال کی وجہ سے پبلک میں شورش پیدا ہوگئی۔ یہاں تک کہ عوام اور حکومت میں تصادم کی نوبت آگئی۔ ۱۱ اگست ۱۹۵۲ کو پولیس فائرنگ ہوئی۔ جس میں ایک درجن آدمی زخمی ہوئے اور آٹھ آدمی ہلاک ہوگئے۔ یہ فائرنگ کسی اشتراکی اسٹیٹ میں نہیں ہوئی تھی کہ دنیا کو اس کی آواز ہی سنائی نہ دیتی۔ فوراً اس کی خبر سارے ملک میں پھیل گئی اور پرجا سوشلسٹ حکومت پر سخت اعتراضات ہونے لگے۔ خود پارٹی کے اندر سخت انتشار پیدا ہوگیا۔ بالآخر اس وزارت کا انجام یہ ہوا کہ اسمبلی میں خود پارٹی کے ایک ممبر نے اس کے خلاف عدم اعتماد کا رزولیوشن پیش کیا جو کثرت رائے سے ے اشوک دور میں جمہوری سوشلزم، صفحہ ۹۱

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page