فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس ہوگیا اور پھر دس مہینے کام کرنے کے بعد یہ وزارت ختم ہوگئی۔ اب اسی علاقہ میں ہندستانی کمیونسٹ پارٹی نے اپنی وزارت بنائی ہے۔ یہ دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت ہے جو کسی آزاد جمہوری علاقہ میں بالکل آئینی اور جمہوری طرز پر قائم کی گئی ہے اور جہاں تک میں نے حالات کا اندازہ لگایا ہے، میرا خیال ہے کمیونسٹ پارٹی کے حق میں بھی وہی بات ثابت ہوگی جو اس سے پہلے جاپان اور خود اس ملک کی سوشلسٹ پارٹیوں کے حق میں صحیح ثابت ہو چکی ہے۔ معاشی خوشحالی کی حقیقت بعض لوگ اس قسم کی دلیل دیتے ہیں کہ ”سیاسی طور پر سوویت روس میں ڈکٹیٹر شپ سہی اور یہ بھی درست کہ اس نے شخصی آزادی پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس نے بھوک کے بنیادی مسئلہ کو حل کر لیا ہے۔“ یہ کہنا دوسرے لفظوں میں اس بات کا دعویٰ کرنا ہے کہ ظلم اور انصاف، دینا اور چھیننا دونوں حالتیں بیک وقت ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر کمیونزم کا کمال یہی ہے تو یہ سوویت روس یا دوسرے کمیونسٹ ممالک کی خصوصیت نہیں۔ دنیا کے تمام جیل خانوں میں یہ چیز بہت پہلے سے موجود ہے۔ جیل کا قانون اگر چہ انسان کی آزادی پر پابندی عائد کرتا ہے اور اس کے اوپر ظلم کو جائز قرار دیتا ہے۔ مگر بھوک کے بنیادی مسئلہ کو اس نے بھی حل کر دیا ہے اور ماضی کے تاریک دور میں غلام سماج کے اندر غلاموں اور جاگیرداری سماج کے اندر کیمیروں (sekfs) کو بھی یہ چیزیں حاصل تھیں جن سے ان کی آزادی چھین لی گئی تھی مگر ان کے آقاٶں نے ”بھوک کے بنیادی مسئلہ“ کو ان کے لیے حل کر دیا تھا۔ تاہم اس سے قطع نظر جو لوگ روس کی معاشی خوش حال کا قصیدہ پڑھتے ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ خبر آپ کو ملی کہاں سے؟ کیا روسی اخبارات اور وہاں سے شائع ہونے والی کتابوں کے ذریعہ، مگر یہ تمام اخبارات اور کتابیں خود حکومت کی طرف سے شائع ہوتی ہیں۔ پھر ان کا کیا اعتبار۔ یہ تو خود فریق کا اپنا بیان ہے، نہ کہ کسی غیر جانب دار شخص کا۔ پھر جس طرح روس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے باشندے معاشی اعتبار سے بہت خوشحال ہیں، ٹھیک اسی طرح وہ اس بات کو بھی نہایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader