Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوۓ تھے اور یہ لندن کے بہترین ٹوپیوں کے کارخانوں میں سے ایک تھا۔ میری آنے والی جمعہ کو بیمار پڑی اور اتوار کو مر گئی۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد جیوری کے آگے بیان دیا کہ میری آنے والی کی موت کھچا کھچ بھرے ہوۓ کمرے میں زیادہ کام کرنے اور تنگ و تاریک جگہ سونے کے باعث ہوئی ہے۔ مگر جیوری کا فیصلہ یہ تھا کہ مرنے والی مرگی سے مری ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ کمرہ کی پھڑ اور زیادہ کام نے اس کی موت کا وقت کچھ قریب کر دیا ہو۔‘‘ اس قسم کے واقعات سے’’سرمایہ‘‘ کے صفحوں کے صفحے اور باب کے باب بھرے ہوۓ ہیں۔ اس طرح کے بھیانک واقعات جمع کرنے سے مارکس کا مقصد یہ تھا کہ اپنے پیروؤں کے دل میں سرمایہ داری کے خلاف شدید نفرت پیدا کر دے اور تاریخ کی سب سے ہولناک جنگ۔ طبقاتی جنگ کے خلاف لڑائی کے لیے تیار کرے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ سرمایہ داری نظام کے خلاف گولہ باری کے لیے اس نے جن چیزوں کو نشانہ بنایا تھا، ان میں سے بہت سے نشانے اب اپنی جگہ پر باقی نہیں رہ گئے ہیں۔ آج اگر سرمایہ دارانہ ظلم کی وہ مثالیں ڈھونڈی جائیں جن سے مارکس کی تحریریں بھری پڑی ہیں اور جن کے متعلق اس کا خیال تھا کہ مزدور انقلاب ہی ان کا خاتمہ کر سکتا ہے تو ممکن ہے’’ اشتراکی جنت‘‘ میں اس کی مثال مل جائے۔ ورنہ عام سرمایہ دار ممالک میں اس کی مثالیں نہیں ملیں گی۔ اب اجرتیں بڑھ گئی ہیں، کام کے اوقات گھٹا دیئے گئے ہیں، مختلف قسم کے الاؤنسوں کا حق تسلیم کیا گیا ہے، مزدوروں کی رہائش، علاج اور دوسری ضروریات کے لئے نسبتاً بہتر انتظامات ہو گئے ہیں۔ مزدوروں کو خود کارخانے کے منافع اور اس کے نظم و نسق میں شریک کیا جانے لگا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کی تین سو کے قریب کمپنیاں اپنے مزدوروں کو کمپنی کے حصے خریدنے کی آسانیاں مہیا کر رہی ہیں۔ چنانچہ ۱۹۵۷ کے آخر تک ہیں ہزار مزدور اور ملازم اپنی کمپنیوں کے حصہ دار بن چکے تھے۔ آج کا ماہر مزدور چھوٹے پیمانے پر خود بھی ایک سرمایہ دار ہوتا ہے۔ پھر سب ے کیپیٹل، جلد اول ، صفحہ ۲۵۴ - ۲۵۵ ، ماسکو ۱۹۵۲

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page