Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

کہتے ہوئے وہ بھول جائے کہ اس دلیل سے وہ خود اپنے پچھلے دعوے کی تردید کر رہا ہے۔ مارکس نے انیسویں صدی کے انگلستان کو سامنے رکھ کر سرمایہ داری پر تنقید کی تھی۔ یہ سرمایہ داری کا وہ دور تھا جب مزدور کو حقیقی معنوں میں اجرتی غلام بنا کر رکھا جا رہا تھا اور اس سے نہایت قلیل اجرت پر ۱۶۔۱۶ اور ۲۰۔۲۰ گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ اس وقت فی الواقع انسانی زندگیوں سے دولت چوسی جا رہی تھی۔ مارکس کے الفاظ میں مزدور کا سرمایہ زندگی چند لقمے، بوسیدہ چیتھڑے اور تاریک جھونپڑی‘‘ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ مارکس نے اس وقت سرمایہ داروں کے مظالم کی داستان چن چن کر اکٹھا کی اور ان کو اپنی مشہور کتاب ’’سرمایہ‘‘ میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج کر دیا۔ ایک سوشلسٹ مفکر کے بقول ’’سرمایہ کے بہترین حصے وہ ہیں جو ان اقتصادی واقعات سے بحث کرتے ہیں، جن کا مارکس کو انسائیکلو پیڈیا ئی علم تھا۔‘‘ ’’جون ۱۸۶۳ کے آخری ہفتہ میں لندن کے تمام روزانہ اخباروں میں سنسنی پیدا کرنے والے عنوان کے ساتھ ایک خبر شائع ہوئی ’’محض زیادہ کام کرنے سے موت‘‘۔ اس میں عورتوں کی ٹوپیاں بنانے والی ایک بیس سالہ لڑکی میری آنے والکی (Marry Anne Walkey) کی موت کا ذکر تھا جو لباس سازوں کی ایک باعزت فرم میں ملازم تھی اور ایلیزے (Elise) کے سہانے نام والی ایک خاتون کے ہاتھوں لوٹی جا رہی تھی۔ یہ لڑکی اوسطاً ۱۶۱؂۲ گھنٹے اور کاروباری دنوں میں اکثر ہیں گھنٹے مسلسل کام کیا کرتی۔ چائے اور قہوہ کا استعمال اس کی گرتی ہوئی قوت کار کو سہارا دے رہا تھا۔ اب موسم عروج پر تھا اور فوری طور پر ان امیر زادیوں کے شان دار لباس تیار کرنے نہایت ضروری تھے، جنھیں نئی شہزادی ویلز کی آمد پر رقص کی اجازت ملی تھی۔ میری آنے والکی نے لگا تار ۲۶۱؂۲ گھنٹے کام کیا۔ اس کے ساتھ ساٹھ لڑکیاں اور بھی تھیں، جن میں سے تمیں ایک کمرہ میں کام کرتی تھیں، اور اس طرح صرف ۱۷؂۴ مکعب فٹ ہوا ہر ایک کو ملتی تھی۔ رات کو وہ دو دو ہو کر ان تنگ سرنگوں میں پڑ رہتیں، جن میں تختوں کے ذریعہ سونے کے خانے تقسیم کیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page