Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

بجائے ان پر قومی مفاد غالب آگیا۔ انھوں نے اپنے ملک کے مزدوروں سے جنگ کی۔ اس جنگ سے پہلے دوسری انٹرنیشنل علمی ایک کانگریس پیسل (سوئزرلینڈ) میں ہوئی جس میں ساری دنیا کے مزدوروں کے نمائندے جمع ہوئے تھے اور انھوں نے ”جنگ کے خلاف جنگ‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے اپنے وطن کی سامراجی حکومتوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے جنگ شروع کی تو وہ بغاوت کر دیں گے۔ مگر لڑائی ہونے کے بعد تجویز بالائے طاق رکھ دی گئی اور مزدوروں کے سامنے ایک نیا نعرہ پیش کیا گیا ”وطن کی خاطر جنگ‘‘ ایسا وطن جو مارکسی منطق کے مطابق مزدور کا نہیں بلکہ سامراج کا وطن تھا، ”نعروں کے اس طرح بدل جانے سے کروڑوں مزدور موت کے گھاٹ اتر گئے۔‘‘ اس واقعہ کا ذکر کمیونسٹ انٹرنیشنل کی چھٹی کانگریس (۱۹۱۸) کی قرارداد میں ان لفظوں میں آیا ہے: ”۱۹۱۴ء کی جنگ میں سوشلسٹوں کی بین الاقوامی انجمن (دوسری انٹرنیشنل) نہایت شرمناک طریقہ پر ختم کر دی گئی۔ اس کے لیڈروں نے مارکس اور انگلس کے کمیونسٹ مینی فیسٹو کے بالکل مخالف راہ اختیار کی جس میں بتایا گیا ہے کہ سرمایہ داری نظام میں پرولتاری طبقہ کا کوئی وطن نہیں ہوتا۔ سٹٹ گارٹ(Stuttgart) اور پیسل(Basle) کی کانگریس میں جنگ کے خلاف جو تجویزییں منظور کی گئی تھیں ان کی مخالفت کی۔ چند ایک کے سوا تمام ملکوں کے مزدور لیڈروں نے جنگی قرضہ کی تائید کی، سامراجی مادر وطن (ایسی حکومت جس پر سامراجی سرمایہ داروں کا قبضہ تھا) کی حفاظت کرنے کے بجائے اس کی تائید کی اور سامراجی جنگ کی مخالفت کرنے کے بجائے اس کے وفادار سپاہی بن گئے۔ مختلف ملکوں میں انقلاب کو کچلا گیا تو اس میں عملی مدد کی۔ ہنگری میں کامیاب پرولتاری انقلاب کے ساتھ نہایت شرمناک طریقہ پر غداری کی۔ مجلس جمعیۃ اقوام میں شریک ہوئے اور غلام ملکوں کے خلاف اپنی سامراجی حکومتوں کی تائید کی۔ انھوں نے سامراجی مزدور طبقہ کی بین الاقوامی جماعت جو ۱۸۸۹ء میں قائم کی گئی تھی۔ اسٹالن نے لکھا ہے کہ ایک طرف مارکس اور انگلز اور دوسری طرف لینن کے درمیان ایک پورا دور گزر رہا ہے جس میں بلاشرکت غیرے دوسری انٹرنیشنل کا بول بالا رہا ہے۔‘‘ پرابلمز آف لینن ازم صفحہ ۱۴

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page