Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

متضاد باتیں

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتی ہے۔ ہیگل نے بھی کہا تھا کہ اس مفہوم میں نظریہ ارتقاء بالکل مہمل ہے۔ مگر ہیگل عالم مادی کے پیچھے ایک متصرف طاقت مانتا ہے۔ ایک شعور جو جان بوجھ کر عالم مادی کو حرکت دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں تو یقیناً یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالم فطرت میں اچانک تغییرات واقع ہوتے ہیں اور ان تغییرات کو وقوع میں لانے والا وہ شعور ہوتا ہے جو کائنات کے پیچھے بالارادہ کام کر رہا ہے۔ مگر مارکس تو ایسی کسی طاقت کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ پھر وہ اس کی کیا توجیہ کرے گا۔ اچانک تغییرات قطعی طور پر کسی متصرف شعور کا پتہ دیتے ہیں۔ سماج میں جو اچانک تغیر مارکس لانا چاہتا ہے وہ خود بخود ہونے والا کوئی عمل نہیں ہے بلکہ پرولتاری طبقہ اس کو بالقصد سرمایہ داروں سے کش مکش کر کے وجود میں لاتا ہے۔ پھر کائنات کے تغییرات لانے والا کون ہے۔ مگر مارکسی حضرات کی مشکل یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ اشتراک کی فلسفہ کی مثال ایک الجھے ہوئے دھاگے کی ہے جس میں بے شمار گرہیں پڑی ہوئی ہیں اور ہر بار گرہ کھولنے کی کوشش اس میں کچھ اور گرہوں کا اضافہ کر دیتی ہو۔ جب روس میں پہلی بار عملًا یہ نظریہ رائج ہوا تو ایک اور مشکل پیش آگئی ”فطرت کبھی چھلانگ لگا کر ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچ جاتی ہے۔“ اس اصول سے کام لے کر محنت کش طبقہ کو سرمایہ دار طبقہ سے ٹکرایا گیا تھا تا کہ رائج الوقت نظام اپنا تسلسل توڑ کر اشتراکی نظام میں تبدیل ہو جائے۔ اس نظریہ کی رو سے اکتوبر انقلاب کے بعد روس میں حقیقی معنوں میں سوشلزم قائم ہو جانا چاہئے تھا اور لوٹ کھسوٹ اور طبقاتی جنگ کا وجود مٹ جانا چاہئے۔ مادی حالات کی تبدیلی سے سماجی حالات بدل جانے پر اشترا کی حضرات علم کیمیا سے استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً آکسیجن کے سالمات (Molecules) میں دو جوہر (Atoms) ہوتے ہیں۔ اگر کسی عمل کے ذریعہ ان کی تعداد تین کر دی جائے تو وہ آکسیجن باقی نہ رہے گا بلکہ اوزون (Ozone) بن جائے گا جو بو اور خاصیت دونوں میں آکسیجن سے مختلف ہے۔ اس استدلال کے معنی یہ ہیں کہ زار کی حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد جب مزدور طبقہ نے اقتدار سنبھال لیا تو فوراً اشترا کی طرز کا بے طبقاتی سماج قائم ہو جانا چاہئے تھا۔ کیوں کہ آکسیجن میں جب مطلوبہ قسم کی مادی تبدیلیاں کر دی جائیں تو وہ پورے طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page