متضاد باتیں
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
متضاد باتیں: جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ہے، مارکسزم ڈارون اور اس کے خلفاء کے مرتب کردہ نظریہ ارتقاء کو تسلیم کرتی ہے، اور واقعات عالم کی توجیہہ کے لیے اسی نظریہ کو استعمال کرتی ہے۔ کارل مارکس نے ڈارون کی مشہور کتاب ’’ آغاز انواع‘‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد فریڈرش انگلس کو لکھا تھا کہ ڈارون کی تحقیق سے ہمارے جدلیاتی نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔ مگر قدیم ڈارونی نظریہ کا ایک پہلو چونکہ اس کے طبقاتی جدوجہد کے نظریہ سے ٹکراتا تھا اس لیے مارکس نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ڈارون اور اس کے ہم خیال سائنس دانوں کا دعویٰ تھا کہ قانون ارتقاء کے مطابق، فطرت میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ تدریجاً عمل میں آتی ہیں اور فطرت کا تسلسل کہیں بھی ٹوٹتا نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ فطرت میں کوئی تغیر اچانک واقع ہو جائے ۔ مگر ایسا ماننے کی صورت میں مارکس کے انقلابی نظریہ کی تردید ہوتی تھی۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ فطرت کے سارے تغیرات اپنے آپ ہو رہے ہیں۔ ڈارون کو تدریجی ارتقاء کا اصول گھڑنا پڑا تھا۔ یعنی کسی خارجی فرمائی کے بغیر کائنات کے تمام مظاہر تدریجی ارتقاء سے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مگر مارکس، ’’ مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ‘‘ قائم کرنے کے لیے اس کا انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا کہ سرمایہ داری کسی تدریجی عمل کے ذریعہ خود سے فنا ہو جائے اور مزدور راج بھی ایک تدریجی عمل کے ذریعہ نامعلوم مدت میں خود بخود قائم ہو جائے۔ وہ تو انقلاب کا داعی تھا۔ ایک سوسائٹی کو توڑ کر فوراً دوسری سوسائٹی قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے قدیم ڈارونی نظریے کے اس پہلو کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ فطرت میں اچانک تغیر بھی ہوتا ہے۔ یعنی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فطرت تدریج وتسلسل سے کام لینے کے بجائے ایک جست لگا کر آگے بڑھ جاتی ہے اور کسی ایسی شئے یا ذی حیات ہستی کو وجود میں لاتی ہے جو شکل اور صفت دونوں اعتبار سے اپنے پیش روئوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یقیناً عالم فطرت میں ایسے تغیرات ہوتے ہیں جیسا کہ جدید تحقیقات سے بھی ثابت ہوا ہے۔ مگر اس کو مان لینے کے بعد پھر مارکس کے دوسرے نظریات کی عمارت دھڑام سے گر
1 کارل مارکس، سلیکٹڈ ورکس، جلد اول، صفحہ اے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader