مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
اب تقریباً آدھی صدی گزر چکی ہے۔ کتنے لوگ پیدا ہوئے اور مر گئے، کتنی آنکھیں کھلیں اور بند ہو گئیں۔ مگر طبقاتی کش مکش ہے کہ تیز سے تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ کسی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ جو کش مکش زار کے خلاف شروع ہوئی تھی، وہ نہ کرنسکی پر رکی، نہ ٹراٹسکی پر۔ اس کا خاتمہ نہ بیر یا پر ہوا، نہ مولوٹوف پر۔ وہ نہ مالنکوف پر ختم ہوئی، نہ ملگا ٹین پر۔ یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کی ابتدا کی تاریخ متعین کی جاسکتی ہے مگر انتہا کی۔ کمیونسٹ حضرات بتائیں کہ روس کا بے طبقاتی سماج تدرّج کے اصول پر سفر کر رہا ہے یا ’’ چھلانگ ‘‘ لگانے میں مصروف ہے۔ اگر تدرّج ہے تو وہ کتنی لمبی ہے اور اگر چھلانگ ہے تو وہ کیسی چھلانگ ہے کہ اس نے ابھی تک ارتقاء کی منزل عبور نہیں کی۔ جاگیرداری سماج سے سرمایہ دارانہ جمہوریت تک پورے ایک دور کو روس نے صرف آٹھ مہینے میں چھلانگ لگا کر عبور کر لیا تھا۔ مگر طبقاتی سماج سے بے طبقاتی سماج تک پہنچنے کی منزل آدھی صدی میں بھی پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ سماجی ارتقاء کا نظریہ: اوپر ہم نے جو گفتگو کی ہے، اس سے مارکسی فلسفہ کی دو بنیادوں کی حقیقت واضح ہوگئی ہے۔ اس بحث سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انسانی تاریخ کے متعلق یہ مفروضہ غلط ہے کہ اس کا کوئی لازمی قانون ہے اور اسی طرح یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ سماجی حالات کو محض معاشی قوانین کی تبدیلی سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اب ہم مارکس کے سماجی ارتقاء کے نظریہ پر گفتگو کریں گے۔ انسانی زندگی کا یہ ایک اہم سوال ہے کہ سماج کو بہتر طور پر منتظم کرنے کے اصول کہاں سے لیے جائیں۔ اس کی خرابیوں کو کس طرح خوبیوں سے بدلا جائے۔ اس کے جواب میں مارکس نے فلسفۂ ارتقاء کا سہارا لیا۔ اس نے کہا کہ جس طرح طبعی دنیا میں تمام چیزیں خود بخود ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کر رہی ہیں۔ اسی طرح انسانی سماج بھی ایک تاریخی عمل کے تحت ارتقاء کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی بناء پر مارکسزم کو سماجی حرکت کی سائنس (social dynamics) کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ علم جو سماج کے سفر ارتقاء کی تشریح کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مارکس کے اس نظریہ کے بعد انسانی تاریخ راجارہانی کی کہانی نہیں رہی بلکہ اس نے باقاعدہ ایک سائنس کی شکل اختیار کر لی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader