Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

سماجی ارتقاء کا نظریہ

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکس کے ’’سائنٹیفک نقطہ نظر‘‘ کے مطابق، طبعی دنیا کی طرح انسانی سماج بھی ارتقاء کے راستہ پر بڑھ رہا ہے اور اس میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے۔ سوشلسٹ تحریکیں اور سرمایہ دارانہ ممالک سوشلسٹ انقلاب اس ارتقائی سفر کے نشانات ہیں جو سماج کو بدتر حالت سے بہتر حالت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ گویا اس نظریہ کی تردید تھی کہ سماج کی اصلاح اور اس کے صحیح قوانین کی دریافت کے لیے’’وجی الہیٰ‘‘ کی ضرورت ہے اس لیے ثابت کیا کہ کسی خارجی کارفرمائی کے بغیر ہمارا سماج خود اپنی اندرونی منطق سے ارتقاء کر رہا ہے، اس کا ہر قدم لازمی طور پر آگے کی طرف ہوتا ہے اور وہ برابر صحیح سمت کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مگر پچھلی ایک صدی کی تاریخ اس نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ سوشلزم کی مثال لیجئے جو مارکسی فلسفہ کے مطابق، تاریخ کا ایک نمایاں ارتقائی قدم ہے۔ یہ سوشلزم مارکس کی ایجاد نہیں ہے۔ اس سے بہت پہلے سوشلسٹ تصورات یورپ میں پیدا ہو چکے تھے۔ مگر مارکسی حضرات کے نزدیک یہ ناقص سوشلزم تھا جس کو مارکس نے مکمل کیا ہے۔ اس زمانہ میں سوشلزم کے معنی یہ تھے کہ سرمایہ دار طبقہ سے اپیل کر کے اس کو مزدوروں کے ساتھ بہتر معاملہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ پر امن جد و جہد کے ذریعہ معاشی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اس زمانہ کے سوشلسٹ مفکرین کا مقصد صرف مزدور طبقہ کو آزاد کرنا نہیں تھا بلکہ ساری نوع انسانی کی آزادی ان کے پیش نظر تھی ۔ وہ مزدور اور کارخانہ دار کو باہم ٹکرانے کے بجائے ان کی باہمی کشمکش کو ختم کرنے کے خواہش مند تھے۔ وہ ذرائع پیداوار پر مکمل ریاستی کنٹرول قائم کرنے کے حق میں نہیں تھے بلکہ صرف اس کے بعض حصوں کو قومی ملکیت میں لینا چاہتے تھے۔ وہ ’’مزدور طبقہ کی ڈکٹیٹر شپ‘‘ کے بجائے سارے عوام کی جمہوری حکومت میں یقین رکھتے تھے۔ وہ عالمی انقلاب کے بجائے قومی سوشلزم کے علم بردار تھے۔ وہ مذہب و اخلاق کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس کو انسانیت کا قیمتی سرمایہ سمجھتے تھے۔ مگر ان نظریات کو مارکس نے باطل ٹھہرایا۔ سوشلزم کے ان تصورات کو اس نے بورژوا اور خیالی سوشلزم کہا۔ اس نے کہا کہ یہ سوشلزم کے نام پر رجعت پسندی کو اختیار کرنا ہے۔ اس نے بتایا کہ سرمایہ دار اور مزدور میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ ان کا ایک دوسرے سے ٹکرانا ضروری ہے تا کہ سرمایہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page