تمہید
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
بسم اللہ الرحمن الرحیم تمهید اشتراکیوں کے نظریہ کو ایک جملہ میں یوں ادا کر سکتے ہیں ’’ ذاتی ملکیت کا خاتمہ‘‘۔ یہ مارکس اور انگلس کے مشہور کمیونسٹ مینی فیسٹو کا ایک فقرہ ہے۔ یہ ذاتی ملکیت کا خاتمہ یا دوسرے لفظوں میں سماجی ملکیت کا نظام معمولی اختلاف کے ساتھ اس زمانے میں عام طور پر انسان کے معاشی مسائل کا حل سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انار کرزم، سنڈ یکلزم، کمیونزم اور گلڈ سوشلزم وغیرہ مختلف ناموں سے ظاہر ہوا ہے۔ اگر چہ ان نظریات کے درمیان مختلف مسائل میں بہت سے اختلافات ہیں اور اکثر اوقات یہ ایک دوسرے کی تردید و تکفیر بھی کرتے رہتے ہیں۔ مگر جو بات سب میں مشترک ہے وہ یہ کہ یہ تمام نظریے اجتماعی ملکیت کے نظام پر یقین رکھتے ہیں اور زندگی کے بارے میں اس فلسفہ کو کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کرتے ہیں جو مارکس نے اپنے نظریے کی تائید میں مرتب کیا تھا۔ یہ مختلف جماعتیں نہیں ہیں، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں یہ ایک تحریک کے مختلف فرقے ہیں جو بعض جزوی یا عملی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں۔ میں زیادہ تر مارکسزم کو سامنے رکھ کر گفتگو کروں گا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ کسی دوسرے مدرسہ فکر کے اصول وقواعد اس طرح سے باقاعدہ طور پر منظم اور متعین نہیں، جس طرح مارکسزم کے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اشتراکی افکار جو مارکس سے پہلے یورپ میں پھیلے ہوئے تھے، مارکسزم ان سب کا خلاصہ اور اس کے بعد جو افکار پیدا ہوئے ، ان سب کی اصل ہے۔ اس لئے مارکسزم پر جو گفتگو ہوگی۔ وہ بڑی حد تک ماضی اور حال کے دوسرے سوشلسٹ نظریات پر بھی اسی طرح چسپاں ہوگی جس طرح وہ خود مارکس کی تعلیمات پر چسپاں ہوتی ہے۔ مارکس نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔ لینن کے الفاظ ہیں : ” اس نے ان سوالوں کے جوابات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader