مارکسزم کیا ہے؟
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکسزم کیا ہے مارکس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے تاریخ کو وہ کچھ بخشا ہے جو ڈارون نے علم الحیات کو۔ مارکس اس خیال کو دوسرے انداز سے ظاہر کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے تاریخ کو سائنس کی صورت دی ہے۔ ایک ایسی سائنس جس کے اپنے قوانین ہیں اور جس کے مطابق ماضی اور مستقبل دونوں کی تشریح کی جاسکتی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی قدر تفصیل کی ضرورت ہوگی، دنیا میں جو کچھ ہے یا ہر آن جو کچھ پیش آرہا ہے ان کو اگر دو واقعات“ کے لفظ سے تعبیر کیا جائے تو یہ دو قسم کے واقعات ہوں گے۔ ایک وہ جو مادی دنیا سے متعلق ہیں اور دوسرے وہ جو انسانی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک دنیا وہ ہے جس کے تمام واقعات اپنے قوانین کے تحت خود بخود وجود میں آتے ہیں اور دوسری دنیا وہ جس کے واقعات کو بظاہر ہر کسی کا شعور اور ارادہ وجود میں لاتا ہے۔ پہلی دنیا میں ایٹم کے ناقابل مشاہدہ ذرات سے لے کر سیاروں کی عظیم کائنات تک ہر چیز ایک قانون میں بندھی ہوتی ہے اور اسی کے مطابق کوئی شکل اختیار کرتی ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اسباب خود اس چیز کے اندر پہلے سے کام کر رہے تھے جس کے اندر کوئی واقعہ ظاہر ہوا ہے۔ اسی طرح جو کچھ آئندہ ہوگا وہ بھی اپنے سابقہ حالات کا نتیجہ ہوگا جس کے اسباب پہلے سے اس کے وجود کے لیے کام کر رہے ہوں گے۔ سیاروں کی گردش کے نظام کو معلوم کرنے کے بعد ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ کوئی ستارہ ایک سو سال پہلے کہاں تھا اور آئندہ ایک سو سال بعد کہاں ہوگا۔ لوہے کی خاصیت دریافت کر کے ہم اس کے ذریعہ بڑی بڑی مشینین اور آلات بنا سکتے ہیں۔ پانی کے قانون کو معلوم کر کے ہم اسے بھاپ کی طاقت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان جس کائنات کو اپنے سامنے پاتا ہے، وہ بذات خود قائم ہے۔ اس کے اپنے قوانین ہیں، جن کے تحت اس کے سارے ظہور میں آتے ہیں۔ اس میں انسانی کوششوں سے کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ انسان کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ کائنات کے قوانین کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader