Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام ﷺ نے اپنے جواب میں اسی عملی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا: پیغمبر اسلام ﷺ کے اس واقعہ سے زندگی کا ایک اہم راز معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ حسبِ حالت تدبیر ہے۔ اس حکیمانہ تدبیر کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ اس تدبیر کو استعمال کر کے زندگی کی ہر مشکل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ تدبیری پسپائی پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے میں 8 ھ میں ایک جنگ ہوئی۔ یہ شام کی سرحد پر موتہ کے مقام پر ہوئی اسی نسبت سے اس کو جنگ موتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ اس کے مقابلے میں فریق ثانی کی فوجی تعداد غیر متناسب طور پر بہت زیادہ تھی۔ آخری مرحلہ میں خالد بن الولید اس کے سردار مقرر ہوئے۔ انھوں نے لڑائی کو غیر مفید سمجھ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ وہ تدبیری پسپائی (tactical retreat) کے اصول پر موتہ سے واپس ہو کر مدینہ چلے گئے۔ عربوں کا مزاج لڑنے مرنے کا مزاج تھا۔ وہ اس پسپائی کی حکمت کو سمجھ نہ سکے۔ چنانچہ جب وہ مدینہ پہنچے تو وہاں کے نوجوانوں نے یا فرار کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ یعنی اے بھاگنے والو۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس کو سنا تو آپ نے اس کی تردید فرمائی۔ آپ نے کہا کہ یہ لوگ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ خدا نے چاہا تو وہ اقدام کرنے والے ہیں: لَيْسُوا بِالْفِرَارِ، وَلَكِنَّهُمُ الْكَرَّارُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 438)۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک صحیح اقدام وہ ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔ محض جوش اور وقار کے لیے لڑ کر مر جانا کوئی مطلوب اسلامی کام نہیں ۔ اگر اہلِ ایمان کے مقابلے میں فریق ثانی کی طاقت فیصلہ کن حد تک زیادہ ہو تو ایسی حالت میں مقابلہ کے لیے اقدام نہیں کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر مقابلہ پیش آ جائے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page