اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کو آگے جانے نہیں دیں گے۔ اس طرح حدیبیہ کے مقام پر ایک تعطّل کی حالت پیدا ہو گئی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ایسا نہیں کیا کہ اس تعطّل کو توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں بلکہ آپ حدیبیہ ہی سے دوبارہ مدینہ واپس آگئے۔ یہ گویا اپنے اور فریق ثانی کے درمیان قائم شدہ اسٹیٹس کو کو مان لینا تھا۔ اس حکمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنے آپ کو مزید مستحکم کر سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور صرف دو سال کے اندر آپ کے لیے مکہ میں فاتحانہ داخلہ ممکن ہو گیا۔ مشکل میں آسانی پیغمبر اسلام ﷺ نے 8 ھ میں مکہ فتح کیا۔ اس کے بعد آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف کے لیے روانہ ہوئے۔ اس زمانہ میں عرب میں ہموار سڑکیں نہیں تھیں۔ چلتے ہوئے ایک جگہ ایک تنگ راستہ آیا جو دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتا تھا۔ چنانچہ یہ راستہ اپنی اسی صفت کے ساتھ مشہور ہو گیا تھا۔ پیغمبر اسلام ﷺ جب اس جگہ پہنچے تو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے (مَا اسْمُ هَذِهِ الطَّرِيق) لوگوں نے جواب دیا کہ اس کا نام تنگ راستہ ہے (فَقِيلَ لَهُ: الضَّيِّقَةُ)۔ آپ نے جواب دیا کہ نہیں، یہ ایک آسان راستہ ہے - فَقَالَ: بَلْ هِيَ الْيُسْرَى (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ (127)۔ اس وقت پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ دس ہزار سے زیادہ آدمی تھے۔ یہ لوگ اگر افقی انداز میں پھیل کر چلتے تو یقیناً ان کے لیے اس راستہ سے گزرنا مشکل ہوتا، ایسی حالت میں وہ ان کے لیے تنگ بن جاتا۔ لیکن یہی لوگ اگر قطار بنا کر چلیں تو ان کے لیے راستہ سے گزرنا مشکل نہ رہے گا، اور وہ بظاہر تنگی کے باوجود ان کے لیے عملی طور پر آسان ہو جائے گا۔ پیغمبر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader