اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
عملی حالات کی رعایت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ 9ھ میں حج کا فریضہ ادا فرمایا۔ اس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان اکٹھے تھے۔ آپ نے اپنے خطبہ میں جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک وہ تھی جس کو انسانی مساوات کا اعلان کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے اس موقع پر یہ تاریخی الفاظ فرمائے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا تعلق صرف دین اور تقویٰ سے ہے۔ اس خطبہ کے تقریبا ڈھائی ماہ بعد مدینہ میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس کو خلیفہ بنایا جائے۔ مذکورہ اعلان کے مطابق بظاہر ہر صرف یہ ہونا چاہیے تھا کہ دین اور تقویٰ کی بنیاد پر خلافت کا فیصلہ کیا جائے، نہ کہ نسل اور قبیلہ کی بنیاد پر۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ آپ کی وفات کے بعد مدینہ کی ایک چوپال (ثقیفہ بنی ساعدہ) میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا۔ لوگوں کا پہلا رجحان یہ تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنایا جائے جو مدینہ کے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پیش کی کہ اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَيْشٍ (انساب الاشراف للبلاذری، جلد 2، صفحہ (263)۔ یعنی خلیفہ یا امام قریش سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سعد بن عبادہ چونکہ قبیلہ قریش سے نہیں ہیں اس لیے ان کو خلیفہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی قدر بحث کے بعد آخر کار لوگوں کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ قبیلہ قریش ہی کے کسی شخص کو خلیفہ بنایا جائے۔ اس کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ اول مقرر ہوئے جو کہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ بظاہر یہ ایک متضاد بات ہے۔ پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں فرمایا۔ اس کے پیچھے ایک عظیم حکمت تھی۔ وہ یہ کہ خلیفہ یا حکمراں کو ایک وسیع انسانی سماج پر احکام کا نافذ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ خلیفہ کی اطاعت کے ذریعہ وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جو اسلامی خلافت کا مقصود ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader