Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم عرب میں سیکڑوں سال کی تاریخ کے نتیجہ میں قریش کے لوگوں کو سرداری کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ عوامی نفسیات کسی ایسے شخص کی سیادت کو آسانی کے ساتھ قبول کرلیتی تھی جس کا تعلق قریش کے قبیلے سے ہو۔ اسی سماجی صورت حال کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اْلأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 12307)۔ یہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی قوم میں جس گروہ کو قریش جیسی سیاسی حیثیت حاصل ہوجائے، اسی گروہ کے کسی فرد کو قوم کے اوپر حاکم بنایا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عملیت (pragmatism) بھی رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ انفرادی معاملہ میں ایک شخص کو ہمیشہ نظری معیار سامنے رکھنا چاہیے۔ مگر اجتماعی معاملات میں بعض اوقات نظری معیار قابل عمل نہیں ہوتا، اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے معاملہ میں نظری معیار کو چھوڑ کر عملی تقاضے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو زندگی کا نظام ہموار طور پر نہیں چل سکتا۔ مستقبل بینی فتح مکہ کے بعد عرب میں وہ دور آیا جس کو تاریخ میں عام الوفود کہا جاتا ہے۔ عرب کے قبائل مدینہ آ کر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے ایک قبیلہ ثقیف بھی تھا جو طائف سے آیا تھا۔ یہ لوگ مدینہ آئے تو انہوں نے ایک انوکھی شرط پیش کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلام تو قبول کر لیں گے لیکن ہم نہ زکوٰۃ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا۔ آپ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرے کا جزءِ بن جائیں گے تو وہ اپنے آپ سب کچھ کرنے لگیں گے۔ چنانچہ آپ نے ان کی شرطوں کو مانتے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page