اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
انہیں اسلام میں داخل کرلیا۔ لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لیے آپ نے فرمایا کہ جب وہ اسلام قبول کرلیں گے تو اس کے بعد وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے: سَيَتَصَدَّقُونَ، وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا (سیرت ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 56)۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں مستقبل بینی ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں ہے جو تاثر کو قبول نہ کرے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ آدمی سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے ۔ بوقت معاملہ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اپنے آپ ایسا ہوگا کہ آدمی مستقبل میں عین وہی بن جائے گا جیسا کہ ریضہ ہیرا یہ بات پپ حال میں ہم دیکھنا چاہتے تھے۔ اوزاروں کی مدد میں رہی ہوں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader