Urdu book · مسائلِ اجتہاد

فن تفکیر

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

فنِ تفکیر Art of Thinking تفکیر (thinking) انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل ہے۔ سچی تفکیر ایک اعلیٰ عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابو الدرداء صحابی کی وفات کے بعد اُن کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کا افضل عمل کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: التَّفَكُّرُ وَالِاعْتِبَارُ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 4، صفحہ 353)۔ یعنی، سوچنا اور عبرت پکڑنا۔ اسی طرح ایک اور صحابی ابو ذر کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابو ذر کی خاص عبادت کیا تھی۔۔ انہوں نے جواب دیا : کَانَ النَّهَارُ أَجْمَعُ خَالِيَا يَتَفَكَّرُ (حلیۃ الاولیاء لابنِ نعیم الاصفهانی، جلد 1، صفحہ 164)۔ یعنی، وہ پورے دن تنہا سوچتے رہتے تھے۔ سوچنے کا عمل ذہن (mind) کی سطح پر ہوتا ہے، اور انسانی وجود میں سب سے بڑی چیز یہی ذہن ہے۔ سوچنے کا عمل ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ تمام بڑی بڑی باتیں سوچنے کے ذریعہ ہی دریافت ہوئی ہیں۔ سوچنا آدمی کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانیت کی اعلیٰ سطح تک پہنچاتا ہے۔ سوچنے کے عمل کے ذریعہ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعہ مشکلات کا حل دریافت ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعہ چھپی ہوئی حقیقتیں انسان کے علم میں آتی ہیں۔ سوچنے کے ذریعہ آدمی یہ معلوم کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے مائنس پوائنٹ کو پلس پوائنٹ میں تبدیل کر سکے۔ سوچنا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے عمل کی مؤثر منصوبہ بندی کرے، اور جو آدمی منصوبہ بند عمل کی صلاحیت رکھتا ہو وہ اس دنیا میں کبھی نا کام ہونے والا نہیں۔ سوچنا ہر آدمی کی پیدائشی صفت ہے۔ مگر صحیح طرزِ فکر (right thinking) صرف اُس شخص کے اندر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو شعوری طور پر اس کے لیے تیار کرے۔ صحیح طرزِ فکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page