Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی پسند اور ناپسند سے اوپر اٹھ کر سوچنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں، نہ کہ ویسا جیسا کہ وہ خود نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ جانبدارانہ سوچ سے مکمل طور پر پاک ہو۔ وہ سوچنے کے نتیجہ کو ہر حال میں قبول کرنے کے لیے تیار ہو خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ علم بغیر معرفت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ (2:282)۔ اس آیت میں علم سے مراد فہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر اللہ کا تقویٰ ہوگا، اس کا تقویٰ اس کے اندر فہم پیدا کرے گا (تفسیر القرطبی، جلد 3، صفحہ 406)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ ایک شخص کے اندر معلومات ہو مگر اس کے اندر حقیقی فہم نہ ہو، کیونکہ فہم و بصیرت کا سرچشمہ تقویٰ ہے، نہ کہ صرف معلومات۔ اسی لیے حدیث میں دعا آئی ہے کہ— اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ (مسند احمد، حدیث نمبر 13674)۔ یعنی، اے اللہ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم جو سے نفع نہ دے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ موجودہ زمانے میں پرجوش مسلمانوں نے مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے جو لڑائیاں چھیڑ رکھی ہیں ان میں انہیں یک طرفہ طور پر تباہی سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ اب وہ شکست خوردہ نفسیات کے تحت خودکش بمباری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر مفروضہ دشمن کے علاقوں میں داخل ہوتے ہیں اور بم دھماکہ کر کے جان بوجھ کر خود ہلاک ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں۔ یہ واقعہ واضح طور پر خودکشی کا واقعہ ہے اور خودکشی کو اسلام میں حرام موت قرار دیا گیا ہے۔ مگر کچھ علما نے اس کو استشہاد (طلبِ شہادت) کا نام دیتے ہوئے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں دورِ صحابہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page