Urdu book · مسائلِ اجتہاد

دوقسمی سوچ

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

دو قسمی سوچ سوچ کی ایک قسم وہ ہے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں ثنائی یا دو قسمی سوچ (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ میں تقسیم کر کے سوچنا۔ یہ طریقہ اکثر اوقات ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔ آدمی کے پاس صرف دو معیار ہوتے ہیں، جب کہ وہاں تیسرا معیار بھی موجود ہوتا ہے۔ مگر آدمی اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر دو صورتوں میں بندھار رہتا ہے۔ وہ تیسری صورت سے بے خبری کی بنا پر اس کو استعمال نہیں کر پاتا، جب کہ اسی تیسری صورت میں اس کی نجات چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک فرقہ کی طرف سے اس کا مذہبی جلوس نکلتا ہے۔ وہ نعرہ لگاتا ہوا دوسرے فرقہ کے محلے سے گزرتا ہے۔ محلے کے لوگ نعرہ کو اپنے خلاف سمجھ کر اس پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہو جاتا ہے جو جان اور مال کے بھیا تک نقصان پر ختم ہوتا ہے۔ اس مثال پر غور کیجیے۔ محلہ کے لوگ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر معاملہ کو صرف دورخ سے دیکھ پاتے ہیں۔ قابلِ اعتراض نعرہ کو گوارا کرنا یا اس کو بند کرنا۔ چونکہ نعرہ کو گوارا کرنا انہیں بزدلی اور بے عزتی معلوم ہوتی ہے اور نعرہ کو بند کرنا انہیں ایک بہادرانہ فعل نظر آتا ہے۔ اس لیے وہ نعرہ کو بند کرنے کے لیے اقدام کرتے ہیں تا کہ اپنی مطلوب پسندیدہ چیز کو حاصل کر سکیں۔ مگر نعرہ کو برداشت نہ کرنے کا نتیجہ عملاً یہ نکلتا ہے کہ انہیں خونی فساد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس تباہی کا سبب دو قسمی طرز فکر ہے۔ اگر محلے والے یہ جانیں کہ ان کے لیے ایک تیسری ممکن صورت بھی ہے، اور وہ ہے نعرہ کو نظر انداز کرنا۔ اگر یہ لوگ اس تیسری صورت پر عمل کریں تو صرف پانچ منٹ کے بعد وہ دیکھیں گے کہ نعرہ لگانے والے اپنے راستے پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page