Urdu book · مسائلِ اجتہاد

زاویۂ نظر کا فرق

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا جب کہ تم ان کو اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم کمزور پڑ گئے اور تم نے کام میں جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی جب کہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھادی جو کہ تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے بعض آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے اور اللہ نے تم کو معاف کر دیا اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے(3:152)۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی، وہ زخم خوردہ تھے۔ مزید یہ کہ احد کی جنگ تمام تر مخالفین اسلام کی زیادتیوں کے نتیجے میں پیش آئی تھی۔ وہ مخالفین کی جانب سے سراسر یک طرفہ حملے کا معاملہ تھا۔ اس جنگ میں مسلمان مکمل طور پر بے قصور تھے اور مخالفین مکمل طور پر باقصور۔ اس کے باوجود ایسا کیوں ہوا کہ قرآن میں مخالفین کو برا بھلا کہنے کے بجائے صرف مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کا انداز اختیار کیا گیا۔ اس کا سبب زاویۂ نظر کا فرق ہے۔ اس طرح کے معاملے میں کلام کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کا منطقی تجزیہ کیا جائے۔ منطقی انصاف کی روشنی میں دیکھا جائے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ یہ طریقہ بظاہر منصفانہ معلوم ہوتا ہے مگر وہ سراسر بے فائدہ ہے۔ اس طرح کے معاملے میں اصل اہمیت منطقی انصاف کو بیان کرنے کی نہیں ہے بلکہ مسئلہ کے حل کی عملی تدبیر ڈھونڈھنے کی ہے۔ اس طرح کے معاملے میں ہونے والی نقصان کی تلافی عملی تدبیر سے ہوسکتی ہے، نہ کہ منطقی تجزیہ سے۔ قرآن نے احد کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہی عملی طریقہ اختیار کیا ہے۔ آخرت کی عدالت میں بلاشبہ ظالموں کو ان کا ظلم بتایا جائے گا اور اس پر انہیں سزا دی جائے گی۔ مگر دنیا میں اس طرح کے موقع پر کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ معاملے کا عملی حل دریافت کیا جائے تا کہ اس کے ذریعہ اپنی شکست کو دوبارہ فتح میں تبدیل کیا جا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page