Urdu book · مسائلِ اجتہاد

سیکنڈ چانس

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

سیکنڈ چانس ایک شخص ایک کمپنی میں منیجر تھا۔ کمپنی کے مالک سے اس منیجر کا جھگڑا ہو گیا۔ یہ جھگڑا بڑھتا رہا۔ اس جھگڑے نے منیجر کو سخت ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ سوچنے لگا کہ وہ خودکشی کر لے۔ مسئلہ کو ختم کرنے کے بجائے اس نے یہ طے کیا کہ وہ خود اپنا خاتمہ کرلے اور اس طرح وہ اس مسئلہ سے نجات حاصل کرے۔ مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے کہا کہ آپ خودکشی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے لیے زندگی کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر موت کا راستہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے بظاہر صرف فرسٹ چانس کو کھویا ہے، سیکنڈ چانس پھر بھی آپ کے لیے موجود ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ اپنی جگہ بدل لیجیے آپ کسی دوسرے شہر میں چلے جائیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کی بنا پر دوسرے شہر میں اپنے لیے اچھے مواقع پالیں گے۔ یہ مشورہ دینے کے بعد میں نے ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے۔ ”باغ کا مالی کبھی باغ کے ایک پودے کو اپنی جگہ سے اکھاڑتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ اس کو دوسری زیادہ بہتر جگہ پر نصب کرے۔“ انہوں نے میرا مشورہ مان لیا اور کمپنی سے استعفادے کر ایک اور شہر میں چلے گئے۔ اب وہاں وہ کاروبار کر رہے ہیں پہلے کے مقابلے میں اب وہ معاشی اعتبار سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ ہر آدمی کی زندگی میں وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ کسی محرومی کا تجربہ کرتا ہے۔ جو لوگ محرومی کو صرف ایک محرومی سمجھیں وہ نئی کوشش کے ذریعہ اپنے آپ کو دوبارہ کامیاب کر لیتے ہیں۔ اور جولوگ محرومی کو مستقل نا کامی سمجھ لیں وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے اندر دوبارہ کوئی نیا عمل کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ یہ دونوں حالتیں آدمی کی اپنی سوچ پر منحصر ہیں۔ ایک قسم کی سوچ آدمی کو نا کام بنا دیتی ہے اور دوسری قسم کی سوچ اس کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page