مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
مشکل آسان ہوگئی پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے دس ہزار سے زیادہ اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف جارہے تھے۔ درمیان میں ایک پہاڑی راستہ آیا جو بظاہر کشادہ نہ تھا۔ آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ راستہ کیسا ہے۔ لوگوں نے راستہ کو اس کی حیثیت ظاہری (face value) پر لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تنگ راستہ ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دس ہزار سے زیادہ آدمیوں کا یہ قافلہ اس تنگ راستہ سے گزر نہیں سکے گا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ ہمارے لیے ایک کشادہ راستہ ہے۔ اور پھر آپ نے یہ تدبیر بتائی کہ تم لوگ مجمع کی صورت میں اس راستے سے گزرنا چاہتے ہو اس لیے تم کو یہ راستہ تنگ دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ بیک وقت پورے مجمع کو اس سے گزرنا ہو تو وہ ہمارے لیے تنگ ہی ثابت ہوگا۔ اب تم ایسا کرو آگے پیچھے ہو کر قطار بنا لو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اب وہ آسانی کے ساتھ چلتے ہوئے اس راستہ سے گزر گئے۔ مجمع کی صورت میں جو راستہ تنگ دکھائی دے رہا تھا قطار کی صورت میں وہ ایک کشادہ راستہ بن گیا۔ یہ سوچ کا فرق ہے۔ اس دنیا میں سب کچھ سوچ پر منحصر ہے۔ غلط سوچ آسان کو مشکل بنا دیتی ہے اور صحیح سوچ مشکل کو آسان کر دیتی ہے سوچ کے اس فرق کا تعلق زندگی کے چھوٹے معاملات سے بھی ہے اور بڑے معاملات سے بھی۔ اس کا تعلق گھریلو مسائل سے بھی ہے اور قومی اور بین الاقوامی مسائل سے بھی۔ غلط سوچ کا نقصان 1930 میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا۔ علامہ اقبال اس وقت لاہور میں رہتے تھے۔ وہ الہ آباد آئے اور اس اجلاس کی صدارت کی۔ اقبال نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اپنی شناخت کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader