Urdu book · مسائلِ اجتہاد

حالات کی رعایت

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث سے صرف فضائل مکہ جیسے مسائل اخذ کریں گے ، اس کے علاوہ اور کوئی تعلیم وہ اس حدیث میں دریافت نہ کر سکیں گے۔ حالانکہ اس حدیث میں اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم بیان کی گئی ہے۔ اس تعلیم کو ایک لفظ میں حکمتِ حیات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ صحیح بات یہ تھی کہ کعبہ کی اساس کو دوبارہ حضرت ابراہیم کی اصل اساس پر قائم کیا جائے۔ اس کو مشرکین کی اساس پر چھوڑ نا بظاہر ایک غیر صحیح فعل تھا اس کے باوجود آپ نے اس کی تصحیح کی کوشش نہیں کی ، کیوں کہ اس وقت کے حالات میں کعبہ کی تعمیر میں یہ تصحیح نئے مسائل پیدا کر سکتی تھی۔ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی اس سنت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ زندگی میں بعض اوقات ایسی صورت حال پیش آتی ہے جب کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کیا درست ہے ( what is right) اور کیا نادرست (what is wrong)۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ممکن ہے (what is possible) اور کیا ممکن نہیں ہے (what is impossible)۔ یہ بے حد اہم بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس اصول کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی اکثر نا کامیاں اس لیے پیش آئی ہیں کہ انہوں نے ممکن اور ناممکن کے اعتبار سے معاملے کو نہیں دیکھا بلکہ اس کو صرف درست اور نادرست کے اعتبار سے دیکھا اور پھر جو انہیں درست نظر آیا اس کی طرف وہ فوراً دوڑ پڑے۔ حالانکہ حالات کے اعتبار سے اس کا حصول ان کے لیے ممکن ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی بے نتیجہ قربانیاں تمام تراسی اصول کو ترک کرنے کا نتیجہ ہیں۔ اس مہلک انجام کا واحد سبب تقلید ہے۔ انہوں نے مذکورہ حدیث کو البخاری کے ترجمہ باب کی بنا پر صرف فضائل مکہ کے اعتبار سے دیکھا، وہ اس کو حکمت حیات کے اصول کے طور پر اخذ نہ کر سکے، وہ تقلید کے دائرہ میں بند ہو کر رہ گئے، وہ اجتہاد کی اگلی منزلیں طے نہ کر سکے جس کے بغیر ترقی کا سفر ممکن ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page