Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں احترام مسلم تو ہے مگر اس میں احترام انسانیت نہیں۔ یہ اعتراض بلاشبہ غلط ہے۔ قرآن وحدیث کے مختلف حوالوں سے اس کی تردید کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں بلاشبہ ایک اہم حوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ واقعہ میں ملتا ہے۔ اس کو لے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں انسان کا احترام کامل درجہ میں موجود ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان جس کو خدا نے پیدا کیا ہے وہ ہر حال میں قابل احترام ہے، خواہ وہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا، خواہ وہ ایک قوم سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری قوم سے، حتیٰ کہ اگر وہ بظاہر دشمن قوم کا فرد ہو تب بھی انسان کی حیثیت سے اس کا احترام کیا جائے گا۔ جب کہ مذکورہ شرح کی صورت میں اسلامی تعلیم کاہی اہم اصول اوجھل ہو جاتا ہے۔ حالات کی رعایت صحیح البخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ قریش نے بعد کو جب کعبہ کی تعمیر کی تو انہوں نے اس کو حضرت ابراہیم کی اساس پر نہیں بنایا بلکہ اس کو بدل کر بنایا (حضرت ابراہیم نے کعبہ کو لمبائی میں بنایا تھا مگر قریش نے اس کو مربع صورت میں بنا دیا۔ انہوں نے قدیم کعبہ کے ایک حصہ کو خالی چھوڑ دیا جس کو اب حطیم کہا جاتا ہے)۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں نہیں کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی اساس پر بنا دیتے۔ رسول اللہ نے جواب دیا کہ تمہاری قوم (قریش) ابھی جلد ہی کفر کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ اس سے بھڑک نہ جائے ۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور ایسا کرتا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1583)۔ امام البخاری نے یہ حدیث کتاب الحج (بَابُ فَضْلِ مَكَّةَ وَبُنْيَانِهَا) میں درج کی ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ امام البخاری کے قائم کردہ اس ترجمۂ باب پر اکتفا کر لیں تو وہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page