Urdu book · مسائلِ اجتہاد

ذہنی سکون

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرا حل وہ ہے جو خاص طور سے یوگا کے مبلغین کی طرف سے بتایا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سے میڈی ٹیشن سینٹر قائم کیے ہیں۔ جہاں دھیان اور میڈی ٹیشن کے ذریعہ لوگوں کو ذہنی سکون کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ مخصوص مراقبہ کے ذریعہ انسانی ذہن میں سوچ کے عمل کو معطل کر دیا جائے تا کہ وہ پریشانی کو شعوری طور پر محسوس کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ مگر اس قسم کا ذہنی سکون حقیقتاً ذہنی تخدیر (mental anaesthesia) کے ہم معنی ہے۔ یہ انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو کند کر کے بے حس حیوان کی سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ اس قسم کا ذہنی سکون، اگر بالفرض حاصل بھی ہو جائے تب بھی وہ یقینی طور پر غیر مطلوب چیز ہے۔ کیوں کہ جو چیز انسان کے اعلیٰ فکری صلاحیت کو دبا دے، وہ گویا انسان کو کو ما (coma) کی حالت میں پہنچانا ہے۔ ایسا ذہنی سکون انسانی موت ہے، نہ کہ انسانی زندگی۔ میڈی ٹیشن (mediation) کا یہ طریقہ فطرت کے نظام کی تردید ہے۔ فطرت نے انسان کو جو سب سے اعلیٰ چیز دی ہے وہ اس کا دماغ (mind) ہے۔ فطرت کے نقشے کے مطابق، دماغ کے لیے پریشانیوں کا پیش آنا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ دراصل زحمت میں رحمت (blessing in disguise) ہے۔ فطرت نے انسان کی ذہنی ترقی کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کا طریقہ رکھا ہے۔ ایسی حالت میں شاک ٹریٹمنٹ کے عمل کو ختم کرنا انسان کے لیے اس کی ذہنی ترقی کے دروازے کو بند کرنا ہے۔ اس اعتبار سے یہ طریقہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے اور جو چیز فطرت کے نظام کے خلاف ہو وہ اپنے آپ قابلِ رد ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی پریشانی (mental tension) کے مسئلہ کا حل ذہنی پریشانی کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو منیج (manage) کرنا ہے۔ فکری تدبیر کے ذریعہ اس کو اس طرح غیر مؤثر کر دینا ہے کہ وہ عمل تو انسان کے لیے پیش آئے مگر وہ انسان کے ذہنی سکون کو برہم (disturb) نہ کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page