Urdu book · مسائلِ اجتہاد

ذہنی سکون

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنی سکون موجودہ زمانہ کا شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج کسی بھی انسان کو ذہنی سکون حاصل نہیں۔ تقریباً ہر آدمی ذہنی تناؤ اور فکری الجھن میں مبتلا ہے۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سامان والا ہو یا بے سروسامان والا۔ پچھلے سال بنگلور کے ایک کمپیوٹر انجینئر کو اس کی ایک ایجاد پر امریکہ کی طرف سے سات سو پچاس ملین ڈالر اچانک مل گئے۔ مگر اس غیر معمولی دولت نے اس کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ صرف ایک سال کے اندر اس کا یہ حال ہوا کہ اس کی نیند ختم ہوگئی اور رات کے وقت وہ نیند کی گولیاں کھا کر سونے لگا۔ موجودہ دنیا کے بیشتر لوگوں کا حال کم وبیش یہی ہے، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ اس مسئلے کا عام طور پر دو حل بتایا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ زیادہ سے زیادہ دولت کماؤ تا کہ زیادہ سے زیادہ راحت کے سامان حاصل کر سکو۔ مگر تجربہ واضح طور پر اس کی تردید کرتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے بے شمار دولت کمائی اور راحت اور آرام کے تمام سامان اپنے پاس اکٹھے کر لیے۔ مگر ان سب کے باوجود وہ سکون اور چین سے محروم رہے یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے معیار پسند (perfectionist) ہے ۔ جبکہ موجودہ دنیا ہر اعتبار سے غیر معیاری (imperfect) ہے۔ اس صورتحال نے انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک تضاد پیدا کر دیا ہے۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی انسان ہر قسم کی دنیاوی سامان کو حاصل کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔ دنیا کی ہر چیز اس کو اپنے ذہنی معیار سے کم تر معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے وہ ان کو پا کر کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ بظاہر راحت کے سامان کے درمیان بھی وہ ہمیشہ ایک قسم کے غیر شعوری عدم اطمینان میں مبتلا رہتا ہے۔ فطرت کا یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ دنیاوی راحت کے سامانوں میں ذہنی سکون تلاش کرنا ایک ایسا بے سود عمل ہے جو کبھی کارآمد بننے والا نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page