Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

دینا پڑا۔ اس حادثہ کا ان پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ وہ بیمار پڑگئے۔ ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ راتوں کی نیند غائب ہوگئی۔ وہ اعصابی کمزوری کا شکار ہوگئے۔ اُن سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں سمجھایا میں نے کہا آپ اس معاملہ کو صرف حال (present) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ اپنی اس سوچ کو بدلیے اور معاملہ کو مستقبل (future) کے اعتبار سے دیکھنا شروع کر دیجیے۔ آپ سادہ طور پر صرف اتنا کیجیے کہ اس معاملہ کو انتظار (wait and see) کے خانہ میں ڈال دیجیے۔ انہوں نے میری نصیحت پکڑ لی۔ اس کے تقریباً دو سال بعد ان کا خط آیا جس میں انہوں نے خوشی کے ساتھ لکھا تھا کہ میرا تمام سامان نفع کے ساتھ فروخت ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا انحصار سوچنے کے طریقہ پر ہے۔ اگر آپ ایک طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن ایک ڈھنگ کا بنے گا اور اگر آپ دوسرے طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن دوسرے ڈھنگ پر کام کرنے لگے گا۔ اسی طرح ہر مایوسی کو اعتماد میں بدلا جاسکتا ہے اور ہر پست ہمتی کو بلند ہمتی میں۔ آئیڈیل یا پریکٹیکل اکثر لوگ صرف اس لیے نقصان اٹھاتے ہیں کہ وہ آئیڈیل اور پریکٹیکل میں فرق نہیں کرتے۔ وہ چیزوں کو آئیڈیل کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں اور جب وہ ان کے آئیڈیل پر پورا نہیں اترتا تو وہ ان کو رد کر دیتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی کی بات ہے۔ موجودہ دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو آئیڈیل ملے۔ بیشتر حالات میں اس دنیا میں پریکٹیکل پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ یہ کوئی کم ہمتی کی بات نہیں، یہ فطرت کا قانون ہے اور اس دنیا میں فطرت کے قانون کو قبول کرنا پڑتا ہے، نہ کہ اس سے ٹکرانا۔ یہ اصول انفرادی زندگی کے لیے بھی کارآمد ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page