آئیڈیل یا پریکٹیکل
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو نئے انقلابی تصورات دنیا میں رائج ہوئے ان میں سے ایک وہ تھا جس کو سیکولرزم (secularism) کہا جاتا ہے۔ یہ نیا سیاسی نظریہ جب دنیا میں آیا تو موجودہ زمانے کے اسلام پسند رہنماؤں نے اس کو رد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرزم اسلام کے خلاف ہے، بلکہ وہ اسلام سے اصولی بغاوت ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انھوں نے سیکولرزم کا ترجمہ لادینیت کا کیا۔ حالانکہ یہ ترجمہ ہر گز درست نہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلم ملکوں میں ہر جگہ مغربی طرز پر تعلیم پائے ہوئے لوگ حکومت کر رہے تھے۔ وہ سیکولر نظام حکومت کے حامی تھے۔ اس بنا پر تمام اسلام پسندوں نے ان کے خلاف نظری اور عملی جنگ چھیڑ دی۔ ہر مسلم ملک کے مسلمان سیکولر طبقہ اور اسلام پسند طبقہ میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ اس بے فائدہ جنگ میں مسلمان کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا جو پوری مسلم تاریخ میں شاید مسلمانوں کو نہیں پہنچا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرزم کا مطلب لا مذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔ یہ سیکولرزم اسلام اور اہل اسلام کے حق میں انتہائی مفید تھا۔ وہ لوگوں کو یہ موقع دے رہا تھا کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں قسم کے ملکوں میں یکساں طور پر اسلام کے مقاصد کے لیے عمل کیا جا سکے۔ مدارس و مساجد کی تنظیم، تعمیری اداروں کا قیام، تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ، اس قسم کے تمام شعبے مکمل طور پر اہل اسلام کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ وہ ان کو استعمال کر کے ہر ملک میں اسلام کا ایمپائر بنا سکتے تھے۔ یہ ایمپائر اگر چہ غیر سیاسی ہوتا مگر وہ بالواسطہ انداز میں سیاسی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader