Urdu book · مسائلِ اجتہاد

نفاذ احکام میں تدریج

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

اس روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلم رہنمائوں کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح البخاری کی مذکورہ حدیث کو بس اس کے ترجمۂ باب کے تحت پڑھتے رہے، وہ ترجمۂ باب سے آگے بڑھ کر اس پر غور نہ کر سکے۔ اس تقلیدی طرزِ فکر کا نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلام کی اس اہم حکمتِ تدریج کو سمجھنے سے قاصر ہے جو اس حدیث میں بتائی گئی تھی۔ موجودہ زمانے میں اکثر مسلم ملکوں میں لمبی مدت سے تطبیقِ شریعت یا نفاذِ شریعت کے نعروں کا شور سنائی دے رہا ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، سوڈان، افغانستان، الجزائر، انڈونیشیاء، نائیجیر یا، بنگلہ دیش، وغیرہ وغیرہ۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود کسی بھی مسلم ملک میں اب تک شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہ آسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں طولِ امد (الحدید، 16:57) کے نتیجے میں ضعفِ ایمان پیدا ہو چکا تھا۔ ان کے اندر وہ ذہنی موافقت اور قلبی آمادگی باقی نہیں رہی تھی جو شرعی احکام کو عملی طور پر قبول کرنے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان کا حال مذکورہ روایت کے مطابق، یہ ہوگیا تھا کہ جب ان کو خمر اور زنا کے احکام کا مخاطب بنایا جائے تو وہ کہہ دیں کہ لاَ نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا وَلاَ نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ یعنی، ہم کبھی بھی شراب نہیں چھوڑیں گے اور کبھی بھی زنا نہیں چھوڑیں گے۔ مثال کے طور پر اکثر مسلم ملکوں میں پرجوش مسلم رہنمائوں نے یہ کیا کہ میڈیا کو اسلامائز کرنے کے لیے ٹی وی کے نظام پر قبضہ کیا اور پھر اس کے ذریعہ ’’اسلامی پروگرام‘‘ دکھانا شروع کر دیا۔ لیکن وہ عملاً مکمل طور پر بے فائدہ رہا۔ کیوں کہ مسلم گھروں میں ٹی وی سیٹ پر جب یہ اسلامی پروگرام آتے تو گھر والے اس کو دیکھتے ہی نہ تھے۔ اور اس وقت ٹی وی سیٹ کی سوئی گھما کر دوسرا کوئی تفریحی پروگرام دیکھنے لگتے۔ نفاذِ شریعت کی ہنگامہ خیز کوششوں کے باوجود اس کی مکمل ناکامی کا بنیادی سبب یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page