Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں میں اجتہادی فکر موجود نہ تھی۔ وہ صرف تقلیدی فکر کا سرمایا لے کر میدان سیاست میں کود پڑے ۔ اس قسم کے تقلیدی فکر کا انجام وہی ہوسکتا تھا جو عملاً پیش آیا۔ میدانِ عمل کی تبدیلی صحیح البخاری میں حضرت ابو ہریرہ کے حوالہ سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)۔ یعنی، مجھے ایک بستی (کی طرف ہجرت) کا حکم دیا گیا ہے، وہ بستیوں کو کھا جائے گی ۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث اپنی صحیح میں کتاب ( فَضَائِلُ الْمَدِينَةِ: بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَأَنَّهَا تَنْفِي النَّاسَ ) کے تحت درج کی ہے۔ اب بعد کے لوگ اگر اس کو تقلیدی ذہن کے تحت دیکھیں تو وہ اس سے صرف فضائل مدینہ کا مسئلہ نکالیں گے، چنانچہ حدیث کے شارحین نے اس روایت کے تحت زیادہ تراسی قسم کی بحثیں کی ہیں۔ مثلاً اکثر شارحین حدیث اس کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ مدینہ کو یثرب کہنا مکروہ ہے اس کو صرف مدینہ یا مدینہ منورہ کہنا چاہیے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن میں مدینہ کے لیے یثرب کا لفظ استعمال ہوا ہے (33:13)۔ اس قرآنی استعمال سے مذکورہ تاویل پر زد پڑتی ہے ۔ چنانچہ اس کی توجیہ بھی ذاتی قیاس کے تحت یہ کر لی گئی کہ وہ صرف غیر مسلموں کے قول کی حکایت ہے (فتح الباری، جلد 4، صفحہ 105)۔ لیکن اگر تقلید اسلاف سے آگے بڑھ کر اس حدیث پر مجتہدانہ انداز سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی طریق کار کا ایک اہم اصول بیان کیا ہے۔ اسی اصول کو ایک نظر میں میدانِ عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page