الٹی سوچ
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ خود مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقہ کے مسلمانوں نے بزعم خود انصاف کے لیے یا اپنے حقوق کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ برعکس صورت میں نکلا۔ تشدد کے آغاز میں وہ جہاں تھے، تشدد کے آخر میں وہ اس سے بھی زیادہ پیچھے چلے گئے۔ اس کی ایک مثال فلسطین کا مسئلہ ہے۔ اعلان بالفور (Balfour Declaration) کے تحت 1948 میں یہودیوں کو فلسطین کا ایک تہائی حصہ دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں عربوں کو فلسطین کا دو تہائی حصہ حاصل ہوا جس میں پورا یروشلم بھی شامل تھا۔ مگر عربوں نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا اور اعلان کیا کہ ہم یہودیوں کو سمندر میں دھکیل دیں گے۔ عربوں کی یہ جد و جہد ابتدا ہی سے تشدد کے راستہ پر چل پڑی اور آج تک اسی راستہ پر چل رہی ہے۔ مگر بے پناہ جانی اور مالی قربانی کے باوجود اس کا نتیجہ عربوں کو صرف ذلت اور محرومی کی صورت میں ملا، ایک روایت میں آیا ہے کہ: إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی، اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خدا نے اس دنیا کے لیے جو قانون مقرر کیا ہے اس کے تحت یہاں کامیابی صرف پرامن طریق کار میں لکھ دی گئی ہے، پر تشدد طریق کار کے ذریعہ یہاں کسی کو کامیابی ملنے والی نہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1742)۔ یعنی، دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اگر کسی کے ساتھ عداوت کے اسباب پیدا ہوں تو اس کے مقابلے میں تمہاری جوابی منصوبہ بندی امن کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ تشدد کی بنیاد پر۔ اصل یہ ہے کہ آدمی جب بھی تشدد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader