Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

تقریروں میں یہ سنیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن ہے تو آپ اس کا تجزیہ کریں۔ آپ یہ سوچیں کہ امریکہ جب ایک دشمن ملک ہے تو چھ ملین سے زیادہ مسلمان وہاں جا کر کیسے آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں ، حتیٰ کہ اخبار کے ایڈیٹر یا سٹیج کے مقرر کے خود اپنے رشتہ دار بھی ۔ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اسلام دشمن ہے تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی ادارے کیوں قائم ہیں اور آزادی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ کیوں ایسا ہے کہ امریکہ میں ایسے شاندار اجتماعات ہوتے ہیں جو مسلم ملکوں میں بھی نہیں ہوتے۔ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اپنی اسلام دشمنی کی بنا پر فلسطین میں یہودیوں کی مدد کرتا ہے تو وہی امریکہ اسلامی ملک پاکستان کی مسلسل طور پر کیوں مدد کر رہا ہے ، وغیرہ۔ جب آپ مسلم اخباروں اور مسلم رہنماؤں کی باتوں کا اس طرح تجزیہ کریں گے تو آپ یقینی طور پر جان لیں گے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میڈیا کی فراہم کردہ ایک فیصد خبروں پر انحصار نہ کیجیے بلکہ اس کے ساتھ بقیہ ننانوے فیصد خبروں کو بھی شامل کر کے دیکھیے اور پھر آپ کبھی رائے قائم کرنے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ الٹی سوچ کوئی فرد یا گروہ تشدد کیوں کرتا ہے، اپنے کسی حق کے حصول کے لیے۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے یہ سوچ بالکل الٹی سوچ ہے۔ کیوں کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ تشدد کے ذریعہ ہم کھوتے ہیں اور امن کے ذریعہ ہم حاصل کرتے ہیں۔ Through violence we lose, through peace we gain. ہٹلر اور اسٹالن جیسے بہت سے ڈکٹیٹروں نے بہت بڑے پیمانے پر تشدد کیا، اپنے خیال کے مطابق، اپنے مفروضہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے۔ مگر بلا استثنا ہر ایک تشدد کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page