Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

دانش مندی یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو فوری تقاضوں (considerations) کو نظر انداز کر کے مستقبل کے اعتبار سے جرات مندانہ فیصلہ کیا جائے۔ مسئلہ پیدا ہونے کے بعد ساری توجہ مسئلہ کو ختم کرنے پر لگائی جائے ۔ ہر فوری نقصان کو گوارا کرتے ہوئے مصالحت کر لی جائے۔ ایسے ہر موقع پر آپ کا نشانہ نزاع کو ختم کرنا ہونا چاہیے ، نہ کہ خود مسئلہ کو ختم کرنا۔ آپ کو چاہیے کہ آپ مستقبل کو دیکھیں ، نہ کہ صرف حال کو۔ آپ کی نظر ملنے والے امکان پر ہونی چاہیے، نہ کہ کھوئے جانے والے نقصان پر ۔ یہی اس دنیا میں ترقی کا واحد راز ہے۔ تنقید کوئی برائی نہیں بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ کام کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اُس میں تنقید کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ غیر تنقیدی انداز عوام کی بھیڑ جمع کرنے کے لیے تو یقیناً مفید ہے مگر وہ کسی گہرے اصلاحی کام کے لیے ہر گز مفید نہیں۔ تنقید کوئی برائی نہیں ، تنقید ایک اعلیٰ نوعیت کا ذہنی عمل ہے۔ تنقید انسان کی فکری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ جہاں تنقید نہیں وہاں فکری ترقی بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کو امر ممنوع (taboo) قرار دینے کا نتیجہ سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہوگا کہ لوگوں کے درمیان بے تنقید حالت قائم ہو جائے ۔ بلکہ عملاً جو کچھ ہو گا وہ یہ کہ لوگ ذہنی جمود میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ اُن کے درمیان سوچنے کا عمل (thinking process) رُک جائے گا۔ اور جس انسانی سماج میں سوچنے کا عمل رک جائے وہ دھیرے دھیرے ایک ایسا سماج بن جائے گا جہاں لوگ جسمانی اعتبار سے بظاہر انسان دکھائی دیں گے، مگر اپنی عقل و فہم کے لحاظ سے وہ حیوانی سطح پر ہوں گے ۔ وہ اعلیٰ فکری ترقی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے ۔ جب کہ اس دنیا میں اعلیٰ فکری ترقی ہی کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page