Urdu book · مسائلِ اجتہاد

بچوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

بچوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ جو لوگ زیادہ بڑی ترقی حاصل نہ کرسکیں وہ اکثر اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ کیا کریں کہ اُن کے بچے اُس معاشی کمی میں مبتلا نہ ہوں جس میں وہ خود مبتلا ہوئے۔ اس احساس کے تحت وہ ایک ایسی چھلانگ لگا دیتے ہیں جو نتیجہ کے اعتبار سے اُن کے برعکس ثابت ہوتی ہے۔ یہ بچوں کے بارے میں سوچنے کا صحیح طریقہ نہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح فارمولا یہ ہے کہ اپنے لیے قناعت، اور بچوں کے لیے ترقی۔ یعنی حالات کے اعتبار سے آپ جس معاشی کامیابی تک پہنچے ہیں اس پر قناعت کرتے ہوئے زندگی گزاریے۔ اس معاملہ کو بچوں کے اوپر چھوڑ دیجیے کہ وہ وسیع دنیا میں ہاتھ پاؤں ماریں اور اپنی محنت کے ذریعہ زیادہ ترقی حاصل کریں۔ آپ بچوں کے لیے صرف ابتدائی زینہ بننے پر قانع ہو جائیے۔ اگلے زینوں پر چڑھنا اور اوپر کی منزل تک پہنچنا یہ بچوں کے لیے چھوڑ دیجیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی باپ کی طرف سے اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر عطیہ یہ نہیں ہے کہ وہ اُن کے لیے دولت کا ڈھیر چھوڑے۔ اس کے برعکس، زیادہ بہتر عطیہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو ایسے حالات دے سکے جو انہیں عمل پر ابھارنے والے ہوں۔ بچوں کے اندر محنت کا جذبہ ہونا سب سے بڑا سرمایہ ہے، نہ کہ باپ کی طرف سے ملی ہوئی دولت۔ محنت کے بغیر جو دولت ملے وہ کوئی اچھی چیز نہیں۔ اس قسم کی دولت وہ چیز ہے جس کو ایزی منی (easy money) کہا جاتا ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے کہ ایزی منی اس کے پانے والے کو فائدہ کم پہنچاتی ہے اور نقصان زیادہ۔ اتحاد کا راز کسی گروہ کے درمیان اتحاد کیسے قائم ہو۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اختلاف کو مٹاؤ تا کہ باہمی اتحاد قائم ہو۔ اس نظریہ کے پیچھے جو سوچ ہے وہ یہ ہے کہ جب اختلاف نہ ہوگا تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page