Urdu book · مسائلِ اجتہاد

کامیاب ازدواجی زندگی

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیاب ازدواجی زندگی شوہر اور بیوی کے درمیان بہتر تعلق کی تعلیم دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً (19: 4)۔ یعنی، ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ یہ بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے شوہر اور بیوی دونوں ہی کے لیے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن معاشرت یا بہتر ازدواجی زندگی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ شوہر کو بالکل اپنی پسند کی بیوی مل جائے یا بیوی کو بالکل اپنی پسند کے مطابق شوہر مل جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز پسند کے خلاف زوج (spouse) کے ساتھ موافقت (adjustment) کرنا ہے، ناپسندیدگی میں پسند کا پہلو تلاش کر لینا ہے۔ مشہور سنگر محمد رفیع کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ وہ ہر ماں باپ کے دل کی دھڑکن بن گیا۔ خود رفیع صاحب نے جب اس کو گایا تو وہ شدت تاثر سے روپڑے۔ اس گانے میں باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ اشعار کہتا ہے، جس میں سے ایک شعر یہ ہے۔ بابُل کی دعائیں لیتی جا جا تجھ کو سکھي سنسار ملے میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے یہ بات فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی لڑکے یا لڑکی کو اس طرح سکھ اور پیار نہیں مل سکتا۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کے سکھ اور پیار کو زوجین کے لیے کامیاب زندگی کا معیار بتانا زوجین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں دونوں کے اندر غیر واقعی ذہن بنتا ہے، اور غیر واقعی ذہن کے ساتھ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page