مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ اس سوچ کے مطابق ، اختلاف ہے تو اتحاد نہیں ، اور جہاں اتحاد ہے وہاں اختلاف نہیں۔ یہ سوچ سراسر بے بنیاد ہے۔ اس طرح کے فارمولے کے ذریعہ دنیا میں کبھی اتحاد قائم ہونے والا نہیں۔ اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ وہ ہر انسان کی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ایسی حالت میں اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس مقصد کے لیے صحیح اور قابل عمل فارمولا یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے ، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کہ لوگوں کے اختلافات کو اس طرح بلڈ وزر کر دیا جائے کہ ان کا وجود ہی باقی نہ رہے۔ موجودہ دنیا میں اصلاح کا حقیقی فارمولا صرف وہ ہے جو انسانی فطرت کے مطابق ہو۔ جو فارمولا فطرت سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہ قابل عمل بھی نہیں ۔ اور جو چیز قابل عمل نہیں وہ مفید بھی نہیں۔ عصر کے ساتھ یسر موجودہ دنیا کا نظام امید کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر رات کے بعد صبح آتی ہے۔ یہاں ہر عصر کے ساتھ ہمیشہ یسر موجود رہتا ہے۔ یہاں ہر مسئلہ کے ساتھ مواقع کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر پرابلم کے ساتھ سلوشن کا موجود ہونا اس دنیا کا ایک اٹل اصول ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہ آئے تو سمجھنا چاہیے کہ ہم جو فارمولا استعمال کر رہے ہیں وہ صورت حال کے مطابق نہیں۔ ایسی حالت میں نئے فارمولے کو استعمال کرنا چاہیے ۔ یہی سنت رسول ہے۔ جہاں جنگ کا فارمولا کار آمد نہ ہو رہا ہو وہاں امن کا فارمولا استعمال کیجیے ۔ جہاں براہ راست مقابلہ مؤثر نہ ہو رہا ہو وہاں بالواسطہ مقابلے کا طریقہ اختیار کیجیے ، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader