دوسرا گروہ: آئنسٹائن
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
نوعیت کیا ہو ۔ یہ ایک بے حد اہم سوال ہے جس کا جواب مختلف مذاہب میں مختلف انداز سے دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیت میں دنیوی معاملات کو مذہب کا لازمی جز ء قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ لوگوں کو نا قابل عمل نظر آنے لگا۔ یہاں تک کہ چرچ اور ریاست میں وہ جنگ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ اس معاملے میں اسلام نے نہایت اہم ہدایات دی ہیں ۔ ان میں سے کچھ کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ الف۔ اسلام میں ایک اہم تعلیم وہ ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (2363) ۔ یعنی تم لوگ اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالص دنیوی نوعیت کے معاملات ، مثلاً زراعت، باغبانی ، شہری منصوبہ بندی ، اقتصادی تنظیم جیسی چیزوں کو علمی ریسرچ کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ یعنی علمی ریسرچ میں جو چیز انسانیت کے لیے مفید ثابت ہوگی وہی مذہب کے نزدیک بھی درست مانی جائے گی۔ ب۔ اسی طرح مذہب اور سیاسی حکمرانی کے معاملے میں قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ سیاسی اقتدار اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے سیاسی اقتدار دیتا ہے (3:26)۔ مزید یہ کہ سیاسی اقتدار امتحان کا ایک پرچہ ہے جس طرح مال اور اولاد وغیرہ امتحان کے پرچے ہیں (10:14) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی حکمرانی کے حصول کے لیے لڑائی کرنا اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فطری تاریخی حالات جس کے حق میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ کریں ، دوسرے لوگ اس کو قبول کر کے اس کو اپنے امتحان کا موقع دیں ، نہ کہ لڑائی کر کے اس سے سیاسی امتحان کے خداداد پرچے کو چھیننے کی کوشش کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader