Urdu book · مسائلِ اجتہاد

دوسرا گروہ: آئنسٹائن

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

مذاہب کے پورے مجموعے میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو استثنائی طور پر اس خصوصیت کا حامل ہے کہ وہ ہر قسم کی علمی جانچ پر پورا اترتا ہے۔ ایسی حالت میں تمام موجود مذاہب کو یکساں درجہ دے کر ان کا خلاصہ نکالنا ایک غیر علمی فعل ہے۔ اس معاملے میں واحد درست موقف یہ ہے کہ ضروری علمی جانچ پر پورا اترنے والے مذہب کو لے لیا جائے اور جو مذاہب اس قسم کی علمی جانچ پر پورے نہ اتریں انہیں تاریخ کے کتب خانہ میں محفوظ کر دیا جائے۔ 2۔ اسلام کو مذہب کا مستند ایڈیشن (authentic version) ماننے کے بعد وہ تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جاتی ہیں جو مختلف مذاہب کو یکساں درجہ دینے کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کائنات کے بارے میں تو ہماتی عقائد کو الگ کر کے خالص سائنسی حقیقتوں کی بنیاد پر کائنات کا مطالعہ کرنا۔ 3۔ اسلام کو مذہب کا واحد نمائندہ ماننے کی صورت میں ہم کو ایک ایسا مستند ماخذ مل جاتا ہے، جس کے ذریعہ مذہبی عقائد کا ایک غیر اختلافی نظام بنایا جا سکے۔ مثلاً مذاہب میں خدا کے بارے میں مختلف اور متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پیغمبری اور رسالت کے بارے میں سخت اختلافی نظریات موجود ہیں۔ موت کے بعد زندگی کی نوعیت کیا ہوگی، اس کے بارے میں بھی متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسرے تمام مذہبی عقائد وافکار کا ہے۔ مگر اسلام کو مذہب کے مستند ماخذ کی صورت میں لینے کے بعد ہمیں ایسے غیر اختلافی نظریات وعقائد مل جاتے ہیں جن پر ہم یقین کر سکیں۔ یقین وہ سب سے بڑی چیز ہے جس کے لیے انسان کو مذہب کی ضرورت ہے۔ اور تمام مذاہب کو یکساں ماننے کی صورت میں، اسی اصل مطلوب چیز سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔ 4۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ مذہب اور دنیوی معاملات کے درمیان تعلق کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page