قناعت کامیابی کا راز
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
پرائم منسٹر کے اس ردعمل کو دیکھ کر میں توسن ہو گیا کہ ہمارا وزیر اعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدر آباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تو احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات تھی۔ حیدر آباد کا حصول ایک سراب تھا جب کہ کشمیر اپنے آپ مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے ۔ چنانچہ احتجاج کے طور پر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا (صفحہ 232-231)۔ سردار شوکت حیات خاں کا یہ بیان اس درد ناک حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر کس طرح مذکورہ مثل کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ممکن اور ناممکن کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ نہ ملنے والی چیز کو پانے کے لیے دوڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھوئی گئی اور نہ ملنے والی چیز تو سرے سے ملنے والی ہی نہ تھی۔ 2۔ اب اس نوعیت کی ایک اور مثال لیجئے ۔ اس مثال کا تعلق 1947 سے پہلے کے دور سے ہے جب کہ برصغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ اس مثال کو اردو ہفت روزہ الجمعیۃ سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس امروہہ (5-3 مئی 1930ء) سے کچھ روز قبل وائسرائے ہند کی کونسل کے ایک ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم نے سبحان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی کو بلا کر یہ پیش کش کی کہ آپ جمعیۃ علماء کے اجلاس امروہہ میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائیداد بمعہ اراضی جمعیۃ علماء ہند کے علمی کاموں کے لیے دلوا دوں گا۔ حضرت مولانا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا ” میاں صاحب ! تمام علما کرام وزعما عظام مجھے بے وقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں۔ اور تم صرف ایک مقبرہ وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت پر فیصلہ کر رہے ہو۔ مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی ۔ یہ واقعہ حضرت مولانا نے راقم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader