قناعت کامیابی کا راز
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
الحروف سے خود بیان فرمایا تھا۔ ( جمعيۃ علماء ہند کا پچاس سالہ عہد از شیخ عبد الحق پراچہ دہلوی ناظم اعلی جمعيۃ علماء صوبہ دہلی ، مطبوعہ الجمعيۃ ويکلی ، دہلی ، 2 جنوری 1970ء، صفحه (8) ۔ 1930ء کے اس واقعہ کو اب 75 سال کے بعد کے حالات کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملہ میں وہی صورت پیش آئی جس کا ذکر مذکورہ عوامی مثل میں کیا گیا ہے ، پچہتر سال پہلے کے رہنماؤں کو ایک نہایت قیمتی موقع کسی کوشش کے بغیر مل رہا تھا مگر وہ اس قیمتی موقع سے صرف اس لیے فائدہ نہ اٹھا سکے کہ ان کے ذہن میں ایک بہت بڑی چیز بسی ہوئی تھی۔ اگرچہ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے وہ چیز انہیں ملنے والی ہی نہ تھی۔ انگریزوں کی مذکورہ پیش کش اپنے امکانات کے اعتبار سے وہی اہمیت رکھتی تھی جس کی پیش کش مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ میں انگریز تاجر کو کی گئی۔ اور اس نے اس کو فوراً قبول کر لیا۔ پچہتر سال پہلے کے مسلم رہنما اگر انگریز کی مذکورہ پیش کش کو قبول کر لیتے اور اس کو علمی اور تعلیمی اور دعوتی مرکز بنا دیتے تو اس کے نتائج اتنے دور رس نکلتے کہ شاید تاریخ کا نقشہ ہی کچھ دوسرا ہوتا۔ اوپر جو دو مثالیں پیش کی گئیں یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مشہور رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے کام کے عظیم مواقع موجود تھے۔ مگر تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ وہ ناممکن کو نشانہ بنا کر اس کی طرف دوڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو بھی حاصل نہ کر سکا اور نا ممکن تو حاصل ہونے والا ہی نہ تھا۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی کو ترکی کی عثمانی سلطنت نے کام کے عظیم مواقع دیے مگر جمال الدین افغانی خود عثمانی سلطنت کی جڑ اکھاڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ترکی کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، مصر کے سید قطب کو وزرات تعلیم بہت چھوٹی چیز لگی۔ وہ خود ناصر کے سیاسی اقتدار کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہونا پڑا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader