Urdu book · مسائلِ اجتہاد

قناعت کامیابی کا راز

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

ساری عمر بے فائدہ دوڑ ودھوپ کرتا رہے۔ زندگی کے اسی اصول کا نام دینی اصطلاح میں قناعت ہے اور قناعت بلاشبہ ہر قسم کی انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کا واحد راز ہے۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ مثلاً مسلم کتاب الزکاۃ، الترمذی، کتاب الزھد، مسند احمد بن حنبل، وغیرہ۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافاً، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 6572)۔ یعنی، اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو اس پر قناعت دی جو اس کو اس نے دیا۔ اس حدیث کو عام طور پر انفرادی معنوں میں اور معاشی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔ مگر وہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے، اس حدیث کا پورا مطلب یہ ہے کہ افراد یا قوموں کو موجودہ زمانے میں جو کچھ ملے یا حالات کے اعتبار سے جوان کے لیے ممکن ہو اس کو وہ خوش دلی کے ساتھ قبول کرلیں، اس پر راضی رہتے ہوئے وہ اپنا علم شروع کردیں۔ اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ملے ہوئے کو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ جو کچھ ان کو حال میں حاصل نہیں، وہ ان کی منصوبہ بند جد و جہد کے نتیجہ میں مستقبل میں حاصل ہوجائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page