قناعت کامیابی کا راز
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ پیش آیا۔ وہاں کے سابق حکمراں صدر محمد ایوب خاں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیش کش کی کہ وہ حکومت کے مکمل تعاون سے پاکستان میں بڑے پیمانہ پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائیں اور اس کے ذریعہ وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر کام کریں۔ مگر دوبارہ یہی ہوا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کو مذکورہ پیش کش چھوٹی معلوم ہوئی۔ انہوں نے پوری حکومت پر قبضہ کرنے کی دھنوار دھار تحریک شروع کر دی مگر تمام کوششوں کے بعد آخر کار جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہو کر رہ گئے۔ یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلم رہنماؤں کی کہانی ہے۔ وہ اپنی خیالی امنگوں میں اتنا گم ہوئے کہ انہیں حقائق و واقعات کی خبر نہ ہوسکی۔ وہ بڑے بڑے نشانوں کو اپنا مقصد بنا کر ان کی طرف دوڑتے رہے، حالانکہ یہ نشانے سرے سے ان کے لیے قابل حصول ہی نہ تھے۔ اور جو چیز ان کے لیے حالات کے اعتبار سے قابل حصول تھی وہ انہیں دکھائی ہی نہ دی۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا نتیجہ ہے کہ ان مشہور رہنماؤں نے صرف ناکام اقدامات کی مثالیں قائم کیں، وہ کامیاب اور نتیجہ اقدام کی مثال قائم نہ کر سکے۔ زیادہ کو پانے کی کوشش میں وہ تھوڑے سے بھی محروم رہے۔ مسلم رہنماؤں کی اس بھیانک غلطی کا سبب یہ تھا کہ تھوڑے کو وہ صرف تھوڑا سمجھے، وہ تھوڑے کو زیادہ کے روپ میں نہ دیکھ سکے۔ وہ زندگی کے اس راز سے نا آشنا ہے کہ عمل کا آغاز ہمیشہ تھوڑے سے کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے عمل کا آغاز ممکن نہیں، جو آدمی اس راز کو سمجھ لے وہ تھوڑے سے شروع کر کے آخر کار زیادہ تک پہنچ جائے گا۔ اور جو شخص اس راز کو نہ سمجھے وہ اپنے غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہ پائے گا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز پالے وہ کبھی نہ کبھی اپنی منزل تک پہنچ جائے گا، اور جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز نہ پائے وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچے گا خواہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader