مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
کے عمل کو اسلام کے معیار سے جانچا جائے گا، نہ یہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے سمجھا جانے لگے۔ اسلام ایک نظریہ ہے۔ مسلمان اُسی وقت مسلمان ہیں جب کہ وہ اسلامی تعلیمات کی پیروی کریں۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات کو چھوڑ دیں اُن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، خواہ بطورِ خود وہ اپنے آپ کو اسلام کا چمپین بتاتے ہوں۔ امن اور تشدد کا فرق امن ایک منصوبہ بند عمل ہے، اور تشدد صرف بھڑک کر جارحانہ کارروائی کرنے کا نام ہے۔ امن پسند آدمی پہلے سوچتا ہے اور اس کے بعد وہ عمل کرتا ہے۔ تشدد پسند آدمی پہلے کر ڈالتا ہے، اس کے بعد وہ سوچتا ہے۔ پُر امن عمل میں پہلے بھی اُمید ہے اور آخر میں بھی اُمید۔ اور پُر تشدد عمل میں پہلے فرضی اُمید ہے اور آخر میں صرف مایوسی۔ امن پسند آدمی سچائی پر کھڑا ہوتا ہے اور پُر تشدد آدمی جھوٹ پر۔ امن کا راستہ شروع سے آخر تک ایک کھلا ہوا راستہ ہے، اور تشدد کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا راستہ۔ امن میں تعمیر ہی تعمیر ہے اور تشدد میں تخریب ہی تخریب۔ امن پسند انسان دوسروں کی محبت میں جیتا ہے اور تشدد پسند انسان دوسروں کی نفرت میں۔ امن پسندی کا خاتمہ کامیابی پر ہوتا ہے اور تشدد پسندی کا خاتمہ شرمندگی پر۔ امن پسندی میں کوئی کام بگڑتا نہیں اور ہر کام بن جاتا ہے۔ تشدد پسندی میں کوئی کام بنتا نہیں اور ہر کام بگڑ جاتا ہے۔ امن کا طریقہ انسانیت کا طریقہ ہے اور تشدد کا طریقہ حیوانیت کا طریقہ۔ امن کا عمل قانون کے دائرہ میں ہوتا ہے اور تشدد کا عمل قانونِ لا قانونیت کے دائرہ میں۔ امن پسند آدمی مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرتا ہے اور تشدد پسند آدمی مواقع کو غیر استعمال شدہ حالت میں چھوڑ کر مسائل کے خلاف بے فائدہ لڑائی لڑتا رہتا ہے۔ امن کا عمل پیار و محبت کا باغ اُگاتا ہے اور تشدد کا عمل نفرت اور دشمنی کا جنگل اُگاتا ہے۔ امن کلچر فرشتوں کا کلچر ہے اور تشدد کلچر شیطانوں کا کلچر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader