مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
امن میں خدا کے حقوق بھی ادا ہوتے ہیں اور انسان کے حقوق بھی۔ اور تشدد میں انسان کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اور خدا کے حقوق کی بھی خلاف ورزی۔ امن اگر جنت ہے تو تشدد اُس کے مقابلہ میں دوزخ۔ امن اور جنگ دونوں یکساں نہیں۔ امن کسی انسان کے لیے ایک سچا انتخاب (choice) ہے۔ اور جنگ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی سچے انتخاب کو نہ پاسکا، وہ انتخاب کے ٹیسٹ میں ناکام ہو گیا۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اگرچہ عملاً موجود ہیں مگر وہ امتحان کے لیے ہیں، وہ مطلوب چیز کے طور پر نہیں۔ مثلاً شراب دنیا میں موجود ہے۔ مگر شراب اس لیے نہیں ہے کہ کوئی آدمی اُس کو استعمال کرے۔ بلکہ شراب اس لیے ہے کہ آدمی اُس سے بچ کر یہ ثابت کرے کہ وہ اچھے اور بُرے کی تمیز رکھتا تھا، وہ ایک محتاط انسان تھا۔ یہی معاملہ جنگ کا بھی ہے۔ جنگ کا طریقہ اگرچہ بظاہر قابلِ استعمال ہے مگر کسی انسان کے لیے اعلیٰ روش یہی ہے کہ وہ جنگ کے طریقہ کو استعمال نہ کرے۔ قدیم زمانہ میں جو حالات تھے اُن میں دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ مگر یہ اجازت قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت تھی۔ اب نئے حالات میں یہ ضرورت باقی نہیں رہی، اس لیے اب جنگ کی بھی ضرورت نہیں۔ صلح بہتر ہے قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَالصُّلْحُ خَیْرٌ (4:128)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔ صلح کا مطلب مصالحت (reconciliation) ہے۔ صلح کا عمل ہمیشہ دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے۔ جب دو فریقوں کے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں متشددانہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کر لیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فوراً سمجھوتہ کر کے نزاعی حالت کو ختم کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader