Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ یہ مصالحت دونوں فریقوں کی یکساں خواہش کے مطابق ہو۔ بیشتر حالات میں یہ مصالحت یک طرفہ بنیاد پر ہوتی ہے، یعنی ایک فریق اپنی خواہش کو پیچھے رکھ کر دوسرے فریق کی خواہش پر معاملہ ختم کرنے کے لیے راضی ہو جائے۔ اس قسم کی یک طرفہ مصالحت کو بہتر کیوں کہا گیا۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ نزاع کی حالت تعمیری عمل کوروک دیتی ہے۔ مصالحت پر راضی ہونے کا فائدہ آدمی کو یہ ملتا ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی طاقت کا کوئی حصہ غیر ضروری ٹکراؤ میں ضائع کیے بغیر اپنی تعمیری جدوجہد کو جاری رکھے۔ غیر مصالحانہ طریقہ ہر حال میں نقصان کا طریقہ ہے۔ اور مصالحانہ طریقہ ہر حال میں فائدہ کا طریقہ۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی فرد یا گروہ نے جب بھی کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو اُس نے یہ کامیابی مصالحانہ طریقہ اختیار کرنے کے بعد حاصل کی ہے۔ ٹکراؤ اور لڑائی کا طریقہ اختیار کر کے اس دنیا میں حقیقی کامیابی کبھی کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔ صلح کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ صلح میں آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ حاصل شدہ مواقع کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کرے جب کہ ٹکراؤ کے طریقہ میں یہ ہوتا ہے کہ ساری طاقت دوسروں کی تخریب میں ضائع ہو جاتی ہے۔ تعمیر کا کوئی کام سرے سے انجام نہیں پاتا۔ حالانکہ ترقی کا راز اپنی تعمیر واستحکام میں ہے، نہ کہ مفروضہ دشمن کو برباد کرنے میں۔ فساد فی الارض نہیں قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ایک کردار کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ﴾ (2: 11)۔ یعنی، جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں جس کردار کا ذکر ہے اُس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بظاہر ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page