Urdu book · مسائلِ اجتہاد

شدت پسندی نہیں

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

الْغُلُوُّ فِي الدِّيْنِ (ابن ماجه، 3029)۔ یعنی، تم لوگ دین میں غلو سے بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئیں۔ غلو کا مطلب شدت یا انتہا پسندی (extremism) ہے۔ غلو ہر معاملہ میں غلط ہے۔ غلو دین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ غلو کا یہی مزاج بڑھ کر تشدد اور لڑائی تک پہنچ جاتا ہے۔ جو لوگ غلو کی نفسیات کا شکار ہوں وہ اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر اعتدال کی روش پر قانع نہیں ہوتے۔ وہ امن اور اعتدال کی روش کو معیار سے کم سمجھتے ہیں اس لیے وہ نہایت آسانی کے ساتھ تشدد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ وہ مقصد کے حصول کے نام پر لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔ غلو کی ضد اعتدال ہے۔ جب لوگوں کے اندر اعتدال کی نفسیات ہو تو وہ ہمیشہ امن کے انداز میں سوچیں گے، وہ اپنی جدوجہد کو پر امن جد و جہد کے طور پر چلائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتدال اور امن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں اعتدال ہوگا وہاں امن ہوگا۔ جہاں امن ہوگا وہاں اعتدال پایا جائے گا۔ اس کے برعکس، غلو کی نفسیات ہمیشہ آدمی کو انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہے، اور انتہا پسندی نہایت آسانی کے ساتھ تشدد اور ٹکراؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ غلو اور تشدد دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں غلو کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ غلو پسندی کا دوسرا نام تشدد پسندی ہے۔ اور غلو نہ کرنے کا دوسرا نام اعتدال پسندی۔ ایک انسان کا قتل ساری دنیا کا قتل قرآن کی سورہ نمبر 5 میں ارشاد ہوا ہے : مَنْ قَتَلَ نَفْسًابِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (5:32)۔ یعنی، جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page